ویب ڈیسک: ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران غیر معقول امریکی مطالبات قبول نہیں کرے گا اور اگر اس پر جنگ مسلط کی گئی تو بھرپور انداز میں جواب دیا جائے گا، تاہم جہاں سفارت کاری کے مواقع ہوں گے، وہاں اسے بھی بروئے کار لایا جائے گا۔
بقائی نے پریس بریفنگ میں کہا کہ ایران ہمیشہ اپنے قومی مفادات اور عوام کے تحفظ کو ترجیح دیتا ہے۔ امریکا کی تجویز پر ایران نے اپنا متوازن جواب گزشتہ روز پاکستان کے ذریعے بھیجا، اور خطے کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے چین کو بھی آگاہ کیا گیا کہ امریکی اقدامات خطے میں عدم استحکام پیدا کر سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے جنگ ختم کرنے، پابندیوں کے خاتمے اور آبنائے ہرمز و سمندری راستوں کی بحالی کے لیے منصفانہ اور ذمہ دارانہ پیشکش کی ہے، اور منجمد ایرانی اثاثوں کی آزادی بھی مطالبات میں شامل ہے۔
بقائی نے یورپی ممالک سے کہا کہ وہ آبنائے ہرمز میں مداخلت سے گریز کریں اور امریکا و اسرائیل کے دباؤ کا شکار نہ ہوں، کیونکہ کسی بھی مداخلت سے صورتحال پیچیدہ ہو سکتی ہے اور توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔