ویب ڈیسک: بھارتی جریدے "دی وائر" نے اپنی حالیہ رپورٹ میں وزیرِ اعظم نریندر مودی کی انتخابی کامیابی کے پیچھے مبینہ بدعنوانی، دھاندلی اور مسلم مخالف پالیسیوں کو بے نقاب کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مغربی بنگال میں تقریباً 1 کروڑ افراد کے نام ووٹر لسٹ سے خارج کر دیے گئے، جس کے باعث لاکھوں شہری حقِ رائے دہی سے محروم ہو گئے۔ جریدے کا کہنا ہے کہ ابتدائی تضادات کی بنیاد پر 27 لاکھ شہریوں کے نام فہرست سے نکالے گئے جبکہ حتمی ووٹر لسٹ جاری ہونے کے بعد مزید 6 لاکھ ووٹرز کے اندراج پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما مغربی بنگال میں غنڈہ گردی کے ذریعے غزہ جیسا نظام نافذ کرنے کے لیے تیار ہیں اور بعض رہنما مسلسل مسلم مخالف بیانات دیتے رہتے ہیں۔
مغربی بنگال کے وزیرِ اعلیٰ سوویندو ادھیکاری کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے جریدے نے کہا کہ انہوں نے مسلمانوں کے لیے مذہب تبدیل کرنے کے بغیر کام نہ کرنے کی بات کی ہے۔ اس کے علاوہ، بی جے پی کے دیگر اہم رہنما جیسے یوگی آدتیہ ناتھ اور ہمانتا بسواسرما بھی ماضی میں متنازع اور مسلم مخالف بیانات دینے کے لیے مشہور رہے ہیں۔