ویب ڈیسک: اسلام آباد میریٹ ہوٹل میں سی آئی ایس ایس کے زیرِ اہتمام ” معرکۂ حق“پر مبنی کتاب کی تقریب رونمائی ہوئی۔ تقریب میں پالیسی سازوں، محققین ،سفارتکارو ں اور دفاعی ماہرین نے بھرپور شرکت کی۔ ڈاکٹر ظفر خان نےکتاب کی ادارت کے فرائض انجام دیے۔
تفصیلات کے مطابق کتاب میں 10 ممتاز اسٹریٹجک، دفاعی اور سلامتی امور کے ماہرین کے تحقیقی مضامین شامل ہیں۔ کتاب جنوبی ایشیا کے اسٹریٹجک ماحول، ڈیٹرنس، بھارتی اسٹریٹجک کلچر کا جامع تجزیہ پیش کرتی ہے۔ ” معرکۂ حق“ کو خطے میں اسٹریٹجک میچورٹی اور طاقت کے توازن میں اہم موڑقرار دیا گیا۔ بھارت کا جارحانہ رویہ ، توسیع پسندانہ پالیسی، ہندوتوا نظریہ جنوبی ایشیا کے امن کے لئے سنگین خطرہ قرار دیا گیا۔
تقریب میں ماہرین نے پاکستان کے ذمہ دارانہ ڈیٹرنس اور مؤثر ردعمل کواہم عنصر قرار دیا۔ کتاب میں اپریل تا مئی 2025 کے واقعات کو علاقائی سکیورٹی کے تناظر میں پرکھا گیا۔ پاکستان کی عسکری حکمتِ عملی ،قومی یکجہتی اور بروقت ردعمل بنیادی عوامل قرار دیا گیا ۔ پاکستان کی موثر جوابی کارروائی نے بھارت کو سخت شرمندگی سے دوچار کیا۔ جدید جنگی جہازوں اور ایس 400 نظام کی تباہی بھارت کی جگ ہنسائی کا سبب بنایا۔ پاکستانی شاہینوں نے بھارت کی علاقائی بالادستی اور تسلط کا خواب چکناچور کر دیا۔
ماہرین کے مطابق معرکۂ حق نے جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن کو نئی جہت دی۔ کتاب بھارت کی جارحانہ پالیسیوں اور ان کے علاقائی اثرات کا تفصیلی جائزہ پیش کرتی ہے۔ مقررین نے مؤثر ڈیٹرنس کو خطے میں امن اور استحکام کے لیے ناگزیر عنصر قرار دیا۔