مکڑیوں کی 'خواجہ سرا' قسم دریافت کرلی گئی

مکڑیوں کی 'خواجہ سرا' قسم دریافت کرلی گئی
کیپشن: مکڑیوں کی 'خواجہ سرا' قسم دریافت کرلی گئی

ویب ڈیسک: تھائی لینڈ کے گھنے اور نم جنگلات میں ایک ایسی نایاب مکڑی دریافت ہوئی ہے جس نے سائنسدانوں کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا ہے۔ یہ مکڑی نہ صرف ایک نئی نوع ہے بلکہ اس میں ایک غیر معمولی حیاتیاتی خصوصیت بھی پائی گئی ہے — یعنی یہ ایک ہی جسم میں نر اور مادہ دونوں کی علامات رکھتی ہے۔

سائنسدانوں نے اس نایاب مکڑی کو ”ڈیمارچس اینازوما“ (Demarchus anazuma) کا نام دیا ہے، جو ایک مشہور جاپانی اینیمے کردار سے متاثر ہو کر رکھا گیا ہے۔ یہ کردار اپنی شکل بدلنے کی صلاحیت کے لیے جانا جاتا ہے، جو مکڑی کی فطری ساخت سے غیر معمولی مماثلت رکھتا ہے۔

منفرد ساخت اور رنگت
تحقیق کے مطابق، اس مکڑی کے جسم کا بایاں حصہ مادہ جبکہ دائیں حصہ نر خصوصیات کا حامل ہے۔ مادہ حصہ نسبتاً بڑا، چمکدار نارنجی رنگ کا اور نمایاں جبڑوں والا ہے، جبکہ نر حصہ چھوٹا اور سرمئی مائل سفید رنگ کا ہے۔ دونوں حصوں کے درمیان قدرتی تقسیم نہایت متوازن اور دلکش ہے، جو اسے دیگر مکڑیوں سے ممتاز بناتی ہے۔

حیاتیاتی مظہر "گائینینڈرومورفزم"
یہ مکڑی حیاتیاتی مظہر ”گائینینڈرومورفزم“ (Gynandromorphism) کی ایک نایاب مثال ہے — یعنی ایک ہی جاندار کے جسم میں نر اور مادہ خلیاتی خصوصیات کا بیک وقت موجود ہونا۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ کیفیت ابتدائی نشوونما کے دوران جنسی کروموسومز میں خلل یا ماحولیاتی اثرات کے نتیجے میں پیدا ہو سکتی ہے۔

تحقیق اور دریافت کا پس منظر
یہ نایاب دریافت تھائی لینڈ کے علاقے نونگ رنگ کے جنگلات میں ہوئی۔ چولالونگ کورن یونیورسٹی کے ماہرین نے اس مکڑی کی مکمل حیاتیاتی جانچ کی۔ تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر چواکورن کنسیٹے کے مطابق، یہ دریافت دراصل ایک فیس بک پوسٹ سے شروع ہوئی تھی، جس میں ایک غیر معمولی مکڑی کی تصویر شیئر کی گئی تھی۔ مزید تحقیقات اور نمونوں کے تجزیے کے بعد معلوم ہوا کہ یہ نہ صرف ایک نئی نوع ہے بلکہ ’بیمرائیڈ‘ خاندان میں اس نوع کی پہلی مثال بھی ہے۔

زہریلے پن کے بارے میں ابتدائی مشاہدات
ابھی تک اس مکڑی کے زہر پر کوئی حتمی سائنسی تحقیق سامنے نہیں آئی، تاہم ماہرین نے مشاہدہ کیا کہ یہ مکڑی خطرہ محسوس ہونے پر اپنے جبڑے کھول کر قطرے خارج کرتی ہے، جو اشارہ دیتا ہے کہ یہ چھوٹے کیڑوں کے لیے زہریلی ہو سکتی ہے۔

فطرت کا نیا کرشمہ
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ”ڈیمارچس اینازوما“ کی دریافت فطرت کی تخلیقی گہرائی کو ایک بار پھر اجاگر کرتی ہے۔ یہ مکڑی اس بات کی یاد دہانی ہے کہ قدرت میں آج بھی بےشمار ایسے راز چھپے ہیں جو انسانی علم کو مسلسل چیلنج کر رہے ہیں۔

Watch Live Public News