ویب ڈیسک: گزشتہ روز سینیٹ سے منظور کی جانے والی 27ویں آئینی ترمیم اپنی نوعیت کے اعتبار سے غیر معمولی قرار دی جا رہی ہے، کیونکہ اسے روایتی طریقہ کار کے برعکس قومی اسمبلی میں پیش کرنے سے قبل سینیٹ میں پیش کیا گیا۔
پاکستان کے 1973 کے آئین میں اب تک 26 ترامیم کی جا چکی ہیں، اور پارلیمانی ریکارڈ کے مطابق اس سے قبل صرف دو مواقع پر ایسا ہوا کہ آئینی ترمیم سب سے پہلے سینیٹ میں پیش کی گئی ہو۔ ان میں 9ویں آئینی ترمیم (اگست 1986) اور 15ویں آئینی ترمیم (اگست 1998) شامل ہیں۔
عمومی طور پر آئینی ترامیم پہلے قومی اسمبلی میں پیش کی جاتی ہیں اور وہاں سے منظوری کے بعد سینیٹ میں بھیجی جاتی ہیں۔ تاہم، اس بار معاملہ مختلف تھا۔
ذرائع کے مطابق حکومت کے لیے قومی اسمبلی سے ترمیم کی منظوری حاصل کرنا نسبتاً آسان تھا، مگر سینیٹ میں اکثریت نہ ہونے کے باعث خدشہ تھا کہ وہاں ترمیم کی منظوری میں مشکلات پیش آسکتی ہیں۔ اسی لیے حکومت نے حکمتِ عملی تبدیل کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ پہلے سینیٹ سے منظوری حاصل کی جائے تاکہ بعد میں قومی اسمبلی سے باآسانی حتمی منظوری لی جا سکے۔
یہی وجہ ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم پہلے سینیٹ میں پیش کی گئی اور وہاں سے منظوری کے بعد اب اسے قومی اسمبلی میں بھیجا جائے گا۔
پاکستان کے آئینی ریکارڈ کے مطابق، پہلی آئینی ترمیم 4 مئی 1974 کو کی گئی تھی، دوسری 17 ستمبر 1974 کو، جبکہ 7ویں ترمیم تک تمام ترامیم 1977 تک مکمل ہو چکی تھیں۔
بعد ازاں، 8ویں آئینی ترمیم 11 نومبر 1985 کو منظور ہوئی، اور پھر 9ویں ترمیم (7 اگست 1986) پہلی ایسی ترمیم تھی جو سب سے پہلے سینیٹ میں پیش کی گئی۔
اسی طرز پر 15ویں ترمیم (اگست 1998) بھی سینیٹ میں پیش ہوئی تھی، تاہم قومی اسمبلی تحلیل ہونے کے باعث وہ وہاں منظور نہ ہو سکی۔
بعد ازاں آنے والی تمام ترامیم — 18ویں (2010) سے لے کر 26ویں (2018) تک — پہلے قومی اسمبلی میں پیش کی گئیں اور پھر سینیٹ سے منظور ہوئیں، البتہ 26ویں ترمیم کے معاملے میں بھی منظوری کا عمل پہلے سینیٹ سے مکمل ہوا تھا۔
ماہرین کے مطابق 27ویں ترمیم کو پہلے سینیٹ میں پیش کرنے کا فیصلہ ایک سیاسی حکمتِ عملی ہے، جس کا مقصد ترمیمی عمل کو قانونی اور پارلیمانی رکاوٹوں سے محفوظ رکھتے ہوئے حتمی منظوری کو یقینی بنانا ہے۔