ویب ڈیسک: لاہور ہائیکورٹ نے 39 سال پرانے اراضی تنازع سے متعلق فیصلہ سناتے ہوئے 1987 کے معاہدۂ بیع کی تکمیل کا دعویٰ مسترد کردیا۔
جسٹس مزمل اختر شبیر نے میاں انعام الٰہی اور دیگر کی جانب سے دائر دوسری اپیل خارج کرتے ہوئے قرار دیا کہ دعویٰ مقررہ مدتِ معیاد گزرنے کے بعد دائر کیا گیا۔
درخواست گزاروں کے مطابق انہوں نے 27 جولائی 1987 کو 199 کنال 9 مرلہ اراضی 10 لاکھ روپے میں خریدنے کا معاہدہ کیا تھا اور ایک لاکھ روپے بیعانہ ادا کیا، تاہم فریق مخالف نے معاہدے پر عمل درآمد نہیں کیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ معاہدے میں تین ماہ کے اندر تکمیل کی شرط موجود تھی، تاہم مخصوص تاریخ درج نہیں تھی۔ درخواست گزار کے اپنے گواہ کے مطابق 15 ستمبر 1987 کو سیل ڈیڈز کے مسودے دستخط کے لیے پیش کیے گئے، جن پر دستخط سے اسی روز انکار کردیا گیا۔
عدالت کے مطابق 15 ستمبر 1987 کو معاہدے سے انکار کے بعد اسی تاریخ سے تین سال کی قانونی مدت شروع ہوئی، جو 15 ستمبر 1990 کو ختم ہوگئی، جبکہ معاہدے کی تکمیل کا دعویٰ دسمبر 1997 میں دائر کیا گیا۔
لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ 26 نومبر 1997 کا قانونی نوٹس نئی وجۂ دعویٰ پیدا نہیں کرسکتا اور قانونی مدت شروع ہونے کے بعد بعد کا کوئی واقعہ اسے دوبارہ شروع نہیں کرتا۔
عدالت نے کہا کہ درخواست گزار طویل تاخیر کی بھی تسلی بخش وضاحت نہیں کرسکے۔ ماتحت عدالتوں کے فیصلوں میں کوئی قانونی یا دائرہ اختیار کی خامی نہ ہونے کے باعث دوسری اپیل خارج کردی گئی۔