یااللہ خیر!اسلام آباد سمیت مختلف علاقوں میں زلزلے کےجھٹکے

یااللہ خیر!اسلام آباد سمیت مختلف علاقوں میں زلزلے کےجھٹکے
کیپشن: یااللہ خیر!اسلام آباد سمیت مختلف علاقوں میں زلزلے کےجھٹکے

ویب ڈیسک: ملک کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکوں سے خوف و ہراس پھیل گیا اور شہری خوفزدہ ہو کر گھروں اور عمارتوں سے باہر نکل آئے۔ ابتدائی طور پر کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ،راولپنڈی اور گرد و نواح  میں شدید ز لزلے کے جھٹکے ، لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے۔

زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 5.5 اور مرکز راولپنڈی سے 60 کلو میٹر شمال مغرب میں تھا، زلزلے کی گہرائی 12 کلومیٹر تھی۔

میانوالی، پشاور، خوشاب ، ہری پور شہر اور گردونواح میں زلز لہ کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے، ایبٹ آباد ، نوشہرہ اور گرد ونواح ، مردان ، صوابی اور گرد ونواح میں ز لزلے کے   جھٹکے محسوس کیے گئے۔

فتح جنگ شہر اور گردونواح ، ٹیکسلا اور گرد و نواح ، راولاکوٹ ، اٹک، پنڈدادن خان اور گرد و نواح، وادی نیلم ، منڈی بہاوالدین ، ہری پور ، خانپور اور گرد و نواح میں زلزلے کےجھٹکے محسوس کیے گئے۔

سوات اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جن کی شدت ریکٹر اسکیل پر 4.3 ریکارڈ کی گئی۔ زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی زیر زمین گہرائی 88 کلومیٹر تھی، جبکہ اس کا مرکز پاک، افغان اور تاجکستان کے سرحدی علاقوں میں واقع تھا۔

پی ڈی ایم اے

پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے ترجمان کے مطابق لاہور، راولپنڈی، گجرات، فیصل آباد سمیت دیگر علاقوں میں زلزلے کی لرزہ خیز کیفیت دیکھی گئی، جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق پنجاب بھر کی ضلعی انتظامیہ کو الرٹ کر دیا گیا ہے اور عمارتوں کی چیکنگ کا عمل تیزی سے جاری ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ نقصان سے بچا جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ تاحال صوبے کے کسی بھی علاقے سے جانی یا مالی نقصان کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

پی ڈی ایم اے کے ترجمان نے بتایا کہ زلزلے کے ممکنہ آفٹر شاکس سے نمٹنے کے لیے ریسکیو مشینری اور عملہ الرٹ کر دیا گیا ہے۔ پراونشل کنٹرول روم اور ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آپریشن سنٹرز کو 24 گھنٹے فعال رکھا گیا ہے۔ 

شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ کسی بھی ممکنہ نقصان یا ہنگامی صورتحال کی اطلاع پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن 1129 پر فوری طور پر دی جائے تاکہ بروقت امدادی کارروائیاں ممکن بنائی جا سکیں۔

Watch Live Public News