ویب ڈیسک: روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایرانی صدر سے ٹیلیفونک گفتگو میں خطے میں جاری کشیدگی کم کرنے اور امن کے قیام میں تعاون کی پیشکش کی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پیوٹن نے کہا کہ روس مشرقِ وسطیٰ میں امن بحال کرنے کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرنے کو تیار ہے، انہوں نے تنازعات کے حل کے لیے سفارتی کوششوں پر زور دیا۔
گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
اس سے قبل ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا تھا کہ اسلام آباد میں ایران اور امریکا بعض معاملات پر اتفاق کے قریب پہنچ گئے تھے، تاہم دو سے تین اہم نکات پر اختلاف کے باعث حتمی معاہدہ نہیں ہو سکا۔
انہوں نے بتایا کہ یہ مذاکرات گزشتہ ایک سال کا طویل ترین دور تھا، جو تقریباً 24 سے 25 گھنٹے جاری رہا۔ ان کے مطابق کچھ امور پر پیشرفت ہوئی، لیکن چند اہم ایشوز پر اختلاف برقرار ہے۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ سفارت کاری ایک مسلسل عمل ہے اور قومی مفادات کے تحفظ کا ذریعہ ہے، اس لیے ایک ہی نشست میں معاہدے کی توقع نہیں تھی۔
ترجمان نے مزید کہا کہ ایران خطے میں پاکستان اور دیگر دوست ممالک سے رابطے میں رہے گا، انہوں نے پاکستان کی حکومت، عوام اور وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا۔