ویب ڈیسک: (علی زیدی) 14 فروری کو عام طور پر محبت کرنے والوں کا دن مانا جاتا ہے اور دنیا بھر میں اس روز کو ویلنٹائن ڈے کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس پر شہری پھول اور چاکلیٹ پیش کرکے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہیں۔ اسی طرح مسلمانوں کے قمری سال کے 8ویں مہینے شعبان کی 15 تاریخ کو مسلمان خصوصی مذہبی عقیدت سے دیکھتے ہیں۔ اس رات کو شب برات کے نام سے جانا جاتا ہے۔ جس پر مسلمان شب بیداری کا اہتمام اور روزہ رکھ کر آخرت کی بخشش کا سامان کرتے ہیں۔
قمری سال چاند کی تاریخوں کے حساب سے چلتا ہے جبکہ عیسوی سال کا کیلنڈر سورج کے طلوع وغروب کے حساب سے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ ایسا شازونادر ہی ہوتا ہے کہ مغربی دنیا کے کسی تہوار اور مسلمانوں کے مذہبی تہوار کی تاریخیں ایک ہی دن آجائیں۔
تاہم اس مرتبہ ویلنٹائن ڈے پر ایسا ہوگیا ہے۔ جہاں دنیا ایک طرف محبت کے اظہار کی تیاری کررہی ہے تو دوسری ہی جانب اسی رات شب برات کی وجہ سے فرزندان اسلام شب بیداری کی تیاری کررہے ہیں۔
ویلنٹائن ڈے کیا ہے؟
ویلنٹائن ڈے کے بارے میں کچھ غلط فہمیاں آج بھی لوگوں کے ذہنوں میں موجود ہیں، لیکن یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ دن صرف جوڑوں کے لیے نہیں ہے، بچے بھی اپنے دوستوں اور یہاں تک کہ اسکول میں اساتذہ کے ساتھ ویلنٹائن ڈے کارڈز دے کر اپنی محبت کا اظہار کرتے ہیں۔
بچے اپنے والدین کو بھی ویلنٹائن کارڈ دے سکتے ہیں، اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دن صرف جوڑوں کے رومانوی تعلقات کے حوالے سے نہیں بلکہ مختلف رشتوں کی اہمیت کے بارے میں بھی ہے۔
شب برات کیا ہے؟
ہجری سال کے مہینے شعبان کی 15 تاریخ کو شب برات کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ لفظ شب فارسی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں رات اور برات عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں آزادی۔ مسلمانوں کا کامل یقین ہے کہ اس رات اللہ اپنے بندوں کے گناہوں کو معاف کرتا ہے اور اس رات کی عبادت کو افضل جانا جاتا ہے۔
مسلمانوں کا کامل یقین ہے کہ اس رات ہی آئندہ سال کیلئے رزق اور عمر کی تقسیم بھی کردی جاتی ہے۔ اس لیے فرزندان اسلام شب بیداری کا خصوصی اہتمام کرتے ہیں اور خصوصی نوافل سے اللہ کے حضور سربسجود ہوکر اپنے گناہوں کی معافی کی دعائیں کرتے ہیں۔
یاد رہے کہ اس مرتبہ شب برات جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات کو آنے کی وجہ سے ویلنٹائن ڈے کیساتھ ایک ہی تاریخ کو آگئی ہے۔ شہریوں کو کہنا ہے کہ محبت کا اظہار تو کسی بھی دن کیا جاسکتا ہے پھر اس کیلئے کسی خاص دن کی ضرورت نہیں لیکن اپنے رب کے حضور سربسجود ہوکر گناہوں کی معافی اور بخشش کے سامان کی مبارک رات سے ہر صورت بھرپور فائدہ اٹھائیں گے اور خصوصی محافل، ذکرواذکار اور نوافل کا اہتمام کرکے آخرت کی بہتری کا سامان کریں گے۔