ویب ڈیسک: وزارت داخلہ نے تصدیق کی ہےکہ لیبیا میں پیش آنے والے کشتی حادثے میں جاں بحق ہونے والے 16 پاکستانیوں میں سے 13 کا تعلق پاراچنار سے ہے۔
حادثے میں جاں بحق ہونے والوں میں ثقلین حیدر، شعیب حسین، نصرت حسین، سید شہزاد حسین، شعیب علی، آصف علی، عابد حسین، اشفاق حسین، شاہد حسین اور آصور حسین شامل ہیں۔
علاوہ ازیں، تین کا تعلق پشاور، باجوڑ اور اورکزئی سے ہے۔ کشتی میں سوار 63 پاکستانیوں میں سے 37 خوش نصیب زندہ بچ گئے، 10جبکہ اب تک لاپتہ ہیں۔
ضلع کرم میں جاری طویل بدامنی اور بے روزگاری کے باعث اکثر نوجوان غیر قانونی طریقے سے یورپ جانے کی کوشش کرتے ہیں، جسے مقامی طور پر ” ڈنکی“ کا نام دیا جاتا ہے۔
خیبرپختونخوا کے قبائلی ضلع کرم میں امن و امان کی صورت حال کے پیش نظر نوجوانوں کی بڑی تعداد بیرون ممالک منتقل ہو رہی ہے۔
گزشتہ کئی برس کے دوران بہتر مستقبل کے لیے بڑی تعداد میں پاکستانی شہری غیرقانونی طریقے سے یورپی ممالک جا چکے ہیں۔
غیرقانونی طریقے سے یورپ جانے والوں میں سے کچھ نوجوان انسانی سمگلروں کے ہاتھ بھی چڑھ جاتے ہیں جو انہیں موت کے منہ میں دھکیل دیتے ہیں۔
جاں بحق افراد کے لواحقین نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ میتوں کو جلد از جلد وطن واپس لایا جائے تاکہ انہیں ان کے آبائی علاقوں میں سپرد خاک کیا جا سکے۔
ہیلپ لائن نمبر:
پاکستانی سفارتخانے نے طرابلس میں ایک ہیلپ لائن بھی قائم کر دی ہے، جہاں پاکستانی شہری کسی بھی مدد یا معلومات کے لیے رابطہ کر سکتے ہیں۔
???? واٹس ایپ: 03052185882 ???? فون نمبر: 0021891387077
ترجمان دفترخارجہ کا کہنا ہے کہ طرابلس میں سفارت خانہ مزید معلومات اکٹھا کرنے اور مقامی حکام سے رابطہ برقرار رکھے ہوئے ہے۔
واضح رہے کہ حادثہ مرسا ڈیلا کی بندرگاہ کے قریب پیش آیا، جہاں 65 مسافروں کو لے جانے والی کشتی الٹ گئی۔ لیبیا کے ریڈ کریسنٹ نے جمعہ کے روز اعلان کیا تھا کہ زاوِیہ کے شمال مغرب میں واقع مرسا ڈیلا بندرگاہ پر کشتی ڈوبنے سے 10 افراد ہلاک ہوئے، تاہم اب یہ تعددا 16 تک پہنچ گئی ہے۔