ویب ڈیسک: وفاقی حکومت نے مختلف صارفین کے لیے بجلی کے نرخوں میں نمایاں کمی کا اعلان کر دیا ہے، تاہم 2026 کے لیے بنیادی ٹیرف (بیس ٹیرف) نیپرا کی جانب سے کمی کی سفارش کے باوجود برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
پاور ڈویژن کے حکام کے مطابق صنعتی صارفین کے لیے بجلی کے نرخوں میں 26 فیصد کمی کی گئی ہے، جس کے بعد فی یونٹ قیمت 62 روپے 99 پیسے سے کم ہو کر 46 روپے 31 پیسے ہو گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی ( نیپرا) نے بیس ٹیرف میں فی یونٹ 62 پیسے کمی کی منظوری دی تھی اور اپنا فیصلہ وفاقی حکومت کو بھجوا دیا تھا۔ نیپرا کی تعین کے مطابق عوامی سماعت کے بعد 2026 کے لیے بیس ٹیرف 34 روپے فی یونٹ سے کم ہو کر 33 روپے 38 پیسے فی یونٹ مقرر کیا گیا تھا۔
تاہم وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے لیے بیس ٹیرف برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے باوجود بجلی کے شعبے میں اصلاحات کے تحت مختلف صارفین کے لیے نمایاں ریلیف کا اعلان کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق کراس سبسڈی میں 123 ارب روپے کی بڑی کمی کی گئی ہے، جس کے بعد یہ 225 ارب روپے سے کم ہو کر 102 ارب روپے رہ گئی ہے۔
ان اقدامات کے نتیجے میں قومی اوسط بجلی ٹیرف 53 روپے 4 پیسے فی یونٹ سے کم ہو کر 42 روپے 27 پیسے فی یونٹ ہو گیا ہے۔ زرعی شعبے کے لیے بجلی کے نرخوں میں 16 فیصد کمی کی گئی ہے، جبکہ کمرشل صارفین کو 10 فیصد ریلیف دیا گیا ہے۔
جنرل سروسز کے لیے بجلی کے ٹیرف میں 12 فیصد کمی کی گئی ہے، جبکہ بلک صارفین کو 15 فیصد ریلیف فراہم کیا گیا ہے۔ آزاد جموں و کشمیر کے لیے بجلی کے نرخوں میں 46 فیصد تک نمایاں کمی کی منظوری بھی دی گئی ہے۔
پاور ڈویژن کے مطابق ان اقدامات کا مقصد صنعتی مسابقت میں اضافہ، کاروباری لاگت میں کمی اور صارفین کو ہدفی ریلیف فراہم کرنا ہے، جبکہ بجلی کے شعبے کے مالی استحکام کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ نیپرا کی سفارش کے باوجود بیس ٹیرف برقرار رکھنے کا فیصلہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت صارفین کو ریلیف دینے اور بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی مالی حالت کو متوازن رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔
صنعتی ٹیرف میں 26 فیصد کمی سے پاکستان کے مینوفیکچرنگ سیکٹر کو نمایاں سہارا ملنے کی توقع ہے، جو طویل عرصے سے توانائی کے بلند اخراجات کو اپنی مسابقت کے لیے بڑا چیلنج قرار دیتا رہا ہے۔
کراس سبسڈی میں نمایاں کمی کو بجلی کے نرخوں کو زیادہ حقیقت پسندانہ اور لاگت سے ہم آہنگ بنانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ اصلاحات ایسے وقت میں کی گئی ہیں جب پاکستان بجلی کے شعبے میں گردشی قرضے کے مسئلے سے نمٹنے اور آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط پوری کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
صنعتی حلقوں نے بجلی کے نرخوں میں کمی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ کم لاگت توانائی سے برآمدات میں مسابقت بڑھے گی اور مینوفیکچرنگ سیکٹر میں سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا۔
نیا ٹیرف اسٹرکچر مالی سال 2026 کے آغاز سے نافذ العمل ہوگا، جس سے صنعتی، زرعی اور کمرشل صارفین کو فوری ریلیف ملے گا۔