ویب ڈیسک: بلوچستان کے ضلع ژوب میں کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کی دہشتگردی کا نشانہ بننے والے 9 پنجابی مسافروں کی میتیں آبائی علاقوں میں سپردِ خاک کر دی گئیں۔ ہر جنازے پر فضا سوگوار تھی، لواحقین کے غم نے اہل علاقہ کو بھی اشکبار کر دیا۔
واقعے میں شہید ہونے والوں میں دنیاپور کے دو سگے بھائی عثمان اور جابر، گجرات کا 23 سالہ بلاول، فیصل آباد کے شیخ ماجد، لاہور کے جنید، مظفرگڑھ کے محمد آصف، ڈی جی خان کے محمد عرفان، خانیوال کے غلام سعید اور گوجرانوالہ کے صابر شامل ہیں۔
دنیاپور میں جب دونوں بھائیوں کے جنازے ایک ساتھ اٹھے تو علاقے میں کہرام مچ گیا، اہل علاقہ کی بڑی تعداد نمازِ جنازہ میں شریک ہوئی۔ بلاول، جو حال ہی میں دبئی سے وطن واپس آیا تھا، اپنے آبائی شہر گجرات میں سپرد خاک ہوا، جب کہ شیخ ماجد کو فیصل آباد، جنید کو لاہور، اور دیگر شہداء کو بھی مکمل سیکیورٹی کے ساتھ ان کے گھروں تک پہنچا کر تدفین کی گئی۔
واقعے پر مقدمہ درج، دہشتگردوں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان
ژوب واقعے کا مقدمہ تھانہ سی ٹی ڈی ژوب میں درج کر لیا گیا ہے، جس میں قتل اور انسدادِ دہشتگردی کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔
دوسری جانب وزیرِ اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی زیرِ صدارت امن و امان سے متعلق اجلاس ہوا، جس میں آئی جی پولیس معظم جاہ انصاری نے ڈب سرہ ڈاکئی واقعے پر تفصیلی بریفنگ دی۔
سرفراز بگٹی نے ہدایت دی کہ دہشتگردوں کے خلاف بلا تاخیر فیصلہ کن کارروائی کی جائے اور لیویز و پولیس کی حدود سے بالاتر ہو کر آپریشن کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ معصوم جانوں کے قاتل کسی رعایت کے مستحق نہیں اور ان کا ہر صورت میں خاتمہ کیا جائے گا۔
ماضی کی کڑی: نوشکی واقعہ کی بازگشت
یاد رہے کہ اپریل 2024 میں بھی بلوچستان کے ضلع نوشکی میں ایسا ہی دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا تھا، جس میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے 9 مسافروں کو بس سے اتار کر قتل کر دیا گیا تھا۔
بلوچستان میں مسلسل نشانہ بننے والے پنجابی شہریوں کے اہلِ خانہ نے حکومت سے انصاف، مستقل سیکیورٹی، اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔