ویب ڈیسک: جنوبی کوریا کی ایک عدالت نے سابق صدر یون سک یول کو شمالی کوریا کی فضائی حدود میں فوجی ڈرون بھیجنے کے مقدمے میں 30 سال قید کی سزا سنا دی۔
استغاثہ کے مطابق ڈرون پروازوں کا مقصد دونوں کوریائی ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ کرنا تھا تاکہ 2024 میں مارشل لا کے نفاذ کے لیے سیاسی اور سکیورٹی جواز پیدا کیا جا سکے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ اس اقدام سے قومی سلامتی کو نقصان پہنچا اور خطے کے استحکام کو خطرات لاحق ہوئے۔
تاہم یون سک یول نے اپنے خلاف عائد الزامات کو مسترد کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈرون آپریشن کا مارشل لا سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ان کے وکلا کے مطابق یہ کارروائی شمالی کوریا کی مبینہ اشتعال انگیزیوں کے جواب میں کی گئی تھی اور اسے سیاسی مقاصد سے جوڑنا درست نہیں۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یون سک یول پہلے ہی مارشل لا نافذ کرنے کی مبینہ کوشش سے متعلق بغاوت کے ایک مقدمے میں عمر قید کی سزا کا سامنا کر رہے ہیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق سابق صدر کو حالیہ فیصلے کے خلاف اپیل کا حق حاصل ہے۔
یاد رہے کہ اس مقدمے نے جنوبی کوریا میں سیاسی اور قانونی حلقوں میں وسیع بحث چھیڑ رکھی ہے، جبکہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اس معاملے پر اختلافات بدستور برقرار ہیں۔