جعفرایکسپریس دہشتگردانہ حملے کی پی ٹی آئی رہنماؤں کیجانب سے مذمت

جعفرایکسپریس دہشتگردانہ حملے کی پی ٹی آئی رہنماؤں کیجانب سے مذمت
کیپشن: جعفرایکسپریس دہشتگردانہ حملے پر پی ٹی آئی رہنماؤں کا ردعمل آگیا

ویب ڈیسک: جعفر ایکسپریس پر دہشتگردانہ حملے کی پاکستان تحریک انصاف کے اہم رہنماؤں نے مذمت کی ہے اور دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی عمرایوب کا بیان:

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان میں بی ایل اے نے سیکیورٹی فورسز کے جوانوں کو یرغمال بنایا۔ ہم بی ایل اے کے اس حملے کی مذمت کرتے ہیں۔ آج وقفہ سوالات مؤخر کرتے اور اس واقعے پر بات کرتے۔

عمر ایوب کا کہنا تھا کہ بلوچستان واقعہ انٹیلیجنس کی ناکامی ہے۔ بلوچستان پر بات ہورہی ہے اور حکومتی اراکین گپ شپ کررہے ہیں۔ پچاس سو دہشت گرد اکٹھے کیسے ہوتے ہیں؟ دہشتگردوں کو کس نے اکٹھا ہونے دیا۔ تحریک انصاف کے پانچ لوگ اکٹھے ہوں تو پولیس مارتی ہے۔ کیا ان کو دہشت گرد نظر نہیں آتے۔

عمر ایوب نے مزید کہا کہ اڈیالہ جیل کے سامنے ہمارے پانچ بندوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ انٹیلیجنس ایجنسیز کہاں ہیں؟ انٹیلیجنس ایجنسیز کی لاپرواہی کا خمیازہ مسلح افواج کے جوان بگھت رہے ہیں۔ انٹیلیجنس ایجنسیز کی لاپرواہی کی مذمت کرتے ہیں۔ اس حکومت نے پاکستان کی علاقائی سالمیت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ آج تک مخصوص نشستوں کو فیصلہ نہیں ہوا۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوان نامکمل ہیں۔

اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان بھچر کی میڈیا سے گفتگو:

پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ملک احمد خان بھچر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کل افسوسناک واقعہ پیش ہوا یہ فیڈریشن کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔ جعفر ایکسپریس واقع پر پورا ملک غم وغصہ میں ہے۔ بانی پی ٹی آئی نے اپنے خطوط میں جو نقشہ کھینچا اسوقت مذاق اڑایا گیا۔ جعفر ایکسپریس واقع کے تمام حقائق کو سامنے لایا جائے۔ 

ملک احمد خان بھچر کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں علیحدگی پسند تحریکوں پر سنجیدگی سے سوچنا چاہیے۔ اس واقع میں جس کا ہاتھ ہے اس کو سامنے لایا جائے۔ میو ہسپتال کا سارا ملبہ نرسوں پر ڈالا جا رہا ہے۔ ان کی ٹک ٹاک پر کارکردگی کے ثبوت بھی اب سامنے آرہے ہیں۔ وزیراعلی کو میو ہسپتال کی ایڈمنسٹریشن کی سمجھ نہیں آرہی تو صوبہ کیسے چلانا ہے؟ 

زرتاج گل کی انسداد دہشت  گردی عدالت راولپنڈی کے باہر میڈیا سے گفتگو:

پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کی رہنما زرتاج گل وزیر نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کا کوئی دین مذہب نہیں، ہم اپنی سکیورٹی فورسز کے ساتھ ہیں۔

   ڈسٹرکٹ کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے زرتاج گل کا کہنا تھا کہ جعفر ایکسپریس کے واقعے کی بھرپور مذمت کرتے ہیں، ہم اپنی سکیورٹی فورسز کے ساتھ ہیں، دہشتگردی ایک ناسور ہے اور دہشتگرد کا کوئی مذہب کوئی دین نہیں ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اس کے خلاف اکٹھے ہوں، ہم اپنے عام شہریوں، سکیورٹی فورسز کے جوانوں کی بہت نعشیں اٹھا چکے ہیں، یہ حکومت بہت ہی نکمی ہے، وزیروں مشیروں کی فوج ایسے اکٹھی کی ہوئی ہے جیسے ریوڑیاں بٹ رہی ہوں۔

صاحبزادہ حامد رضا کی میڈیا سے گفتگو:

صاحبزادہ حامد رضا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چھ ماہ سے کہہ رہے ہیں کہ بلوچستان کے حالات خراب ہیں۔ سبی سے لیکر بولان تک کالعدم جماعت بی ایل اے کا قبضہ ہے۔ بلوچستان کے اندرون میں طالبان کے جھنڈے لگے ہوئے۔ 

انہوں نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ موجودہ حالات میں سیاسی تنازعات کو سائیڈ پر رکھ کر معاملہ کو دیکھنا چاہیے۔

لطیف کھوسہ کی میڈیا سے گفتگو:

پی ٹی آئی رہنما سردار لطیف کھوسہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ کو بلوچستان واقعے پر فوری مستعفی ہونا چاہیے۔ بلوچستان کے حوالے سے دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ بلوچستان واقعہ انٹیلیجنس کی ناکامی ہے۔  ہم دہشت گردی کا قلعہ قمع کرنے میں آپ کے ساتھ ہیں۔ 

لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ اس دہشت گردی کو ہمیں جڑ سے اکھاڑ کر پھینکنا ہوگا۔ سب کو اپنا کام کرنا ہوگا۔ کسی کو تو اس ملک میں مستعفی ہو کر روایت قائم کرنی چاہیے۔ وزیر دفاع کو واقعے کے بعد مستعفی ہونا چاہیے۔ ہماری قیمتی جانیں جا رہی ہیں۔ پاکستان کی دنیا بھر میں بدنامی ہو رہی ہے۔

عامر ڈوگر کی پارلیمنٹ میں گفتگو:

عامر ڈوگر نے پارلیمنٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ٹرین حادثہ بہت افسوسناک ہے یہ ایک سفاک حرکت ہے۔ یہ پاکستان کی سالمیت پر وار کیا گیا ہے۔ کیا پلوچستان میں پنجاب سے کوئی کار، بس ٹرین نہیں جاسکے گی؟ یہ ملک کی سلامتی کے لئے بہت بڑی وارننگ ہے۔ حکومت اور سیکیورٹی ادارے جب سر جوڑ کر بیٹھیں گے تو حل نکالیں گے۔

Watch Live Public News