(ویب ڈیسک ) ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے جعفر ایکسپریس حملے پر آپریشن کے حوالے سے کہا ہے کہ تمام دہشگردوں کو ہلاک کردیا گیا، آپریشن میں آرمی، ایئرفورس، ایف سی اور ایس ایس جی نے حصہ لیا۔ آپریشن شروع ہونے سے پہلے دہشت گردوں نے 21شہریوں کو شہید کیا، مرحملہ وار یرغمالیوں کو رہا کرایا گیا۔
لیفٹننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ 11 مارچ کو تقریباً ایک بجے دہشت گردوں نے بولان پاک کے علاقے اوسی پور میں ریلوے ٹریک کو دھماکے سے اڑایا، وہاں جعفر ایکسپریس ٹرین آرہی تھی، ریلوے حکام کے مطابق اس ٹرین میں 440 مسافر موجود تھے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ دشوار گزار علاقہ ہے، دہشتگردوں نے پہلے یہ کیا کہ یرغمالیوں کو انسانی شیلڈ کے طور پر استعمال کیا، جس میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں، بازیابی کا آپریشن فوری طور پر شروع کر دیا گیا، جس میں آرمی، ایئر فورس، فرنٹیئر کور اور ایس ایس جی کے جوانوں نے حصہ لیا۔
لیفٹننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ مرحلہ وار یرغمالیوں کو رہا کروایا گیا، یہ دہشتگرد دوران آپریشن افغانستان میں اپنے سہولت کاروں اور ماسٹر مائینڈ سے سیٹلائیٹ فون کے ذریعے رابطے میں رہے، کل شام تک 100 کے لگ بھگ مسافروں کو دہشتگردوں سے بحفاظت بازیاب کروا لیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ آج بھی بڑی تعداد میں یرغمال مسافروں کو بشمول خواتین اور بچوں کو بازیاب کروایا گیا اور یہ سلسلہ وقتاً فوقتاً جاری رہا، شام کو جب فائنل کلیئرنس آپریشن ہوا ہے، اس میں تمام مغوی مسافروں کو بازیاب کروایا گیا، کیونکہ یہ دہشت گرد مسافروں کو ہیومن شیلڈ کے طور پر استعمال کررہے تھے اس لیے انتہائی مہارت اور احتیاط کے ساتھ یہ آپریشن کیا گیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ سب سے پہلے فورسز کے نشانہ بازوں نے خودکش بمباروں کو جہنم واصل کیا، پھر مرحلہ وار بوگی سے بوگی کلیئرنس کی اور وہاں پر موجود تمام دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ وہاں پر موجود تمام دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا گیا ہے، اور ان کی کل تعداد 33 ہے، کلیئرنس آپریشن کے دوران کسی بھی معصوم مسافر کو نقصان نہیں پہنچا، لیکن کلیئرنس آپریشن سے پہلے جو مسافر دہشتگردوں کی بربریت کا شکار ہوئے اور شہید ہوئے، ان کی تعداد 21 ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر ن کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ ریلوے پکٹ پر تعینات 3 ایف سی جوان شہید ہوئے جبکہ کل ایف سی کا ایک جوان دوران آپریشن شہید ہوا۔
لیفٹننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ موقع پر موجود تمام دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے ہیں، تاہم علاقے اور ٹرین کی کلیئرنس اور جانچ پڑتال ایس او پی کے مطابق بم ڈسپوزل اسکواڈ کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ مغوی مسافر جو آپریشن کے دوران دائیں، بائیں علاقوں کی طرف بھاگے ہیں، ان کو بھی اکٹھا کیا جارہا ہے، یہ بات ضرور کہنا چاہوں گا کہ کسی کو اس بات کی اجازت ہرگز نہیں دی جاسکتی کہ وہ پاکستان کے معصوم شہریوں کو سڑکوں پر، ٹرینوں میں، بسوں میں یا بازاروں میں اپنے گمراہ کن نظریات اور اپنے بیرونی آقاؤں کی ایما اور ان کی سہولت کاری پر معصوم لوگوں کو نشانہ بنائیں۔