ویب ڈیسک: انگریزوں اور ہندوؤں کا مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک ایک علیحدہ ریاست کی تحریک کا باعث بنا۔
قائد اعظم نے کہا تھا کہ مسلمان علیحدہ قوم ہیں ، جن کا رنگ، نسل اور تہذیب ہندوؤں سے جدا ہے۔
قرارداد پاکستان کے حوالے سے بیرسٹر شاہدہ جمیل کا کہنا ہے کہ 1937ء کے دو سالہ تجربہ نے ہمیں رام راج کی حقیقت صاف دکھا دی۔ یہ تجربہ صاف دکھاتا ہے کہ ہم ایک ساتھ نہیں چل سکتے تھے۔ 1940ء کی قرارداد سامنے آئی جس میں واضح تھا کہ زیادہ سے زیادہ خود مختاری حاصل کی جائے۔
بیرسٹر شاہدہ جمیل کا مزید کہنا تھا کہ قرارداد میں جو باتیں لکھی گئیں ان کے مطابق اس وقت کی فیڈریشن کی سکیم کو قبول نہیں کیا جا سکتا تھا۔ قرارداد 1940 کے مطابق انڈیا ایکٹ 1935ء کے تحت ہمیں نئے سرے سے مذاکرات کرنا تھے۔ ہم نے دیکھا کہ ہندو معاشرے میں ذات پات کا نظام تیزی سے ابھرنے لگا تھا۔
بیرسٹر شاہدہ جمیل نے کہا کہ پہلے جو ہمیں برابر سمجھتے تھے وہ اچانک ہمیں نیچ سمجھنے لگے تھے۔ نہرو نے بیان دیا کہ یہ کیا کرینگے، یہ کونسا پاکستان حاصل کرینگے، ان میں دم ہے نہ جان۔ اس کے جواب میں نعرہ بنا ڈٹ کر لینگے پاکستان، بٹ کر رہے گا ہندوستان۔