(ویب ڈیسک) پنجاب اسمبلی نے صوبے میں سولر پینلز اور جدید بیٹریز کی مقامی سطح پر تیاری کو فروغ دینے اور استعمال شدہ سولر پینلز و بیٹریز کی محفوظ ری سائیکلنگ اور تلفی کے لیے جامع پالیسی اور قانون سازی کا مطالبہ کر دیا۔
اجلاس کے دوران اپوزیشن رکن نادیہ کھر کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد ایوان نے متفقہ طور پر منظور کرلی۔ قرارداد میں حکومت پنجاب کی توجہ زائد المیعاد اور خراب سولر پینلز و بیٹریز کی بڑھتی ہوئی تعداد اور ان کی غیر محفوظ تلفی سے پیدا ہونے والے ماحولیاتی و انسانی صحت کے خطرات کی جانب مبذول کرائی گئی۔
قرارداد میں کہا گیا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران ملک میں سولر پینلز کی تنصیب اور الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں استعمال شدہ بیٹریز اور سولر پینلز کی مقدار بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ تاہم، ان کے محفوظ اور ماحولیاتی اصولوں کے مطابق ٹھکانے لگانے کے لیے مؤثر پالیسی اور قانون سازی کا فقدان ہے۔
ایوان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ زائد المیعاد سولر پینلز جمع کرنے کے لیے صوبے میں مخصوص مراکز قائم کیے جائیں، جہاں قابلِ استعمال مواد کو ری سائیکل جبکہ ناقابلِ استعمال کچرے کو ماحولیاتی تقاضوں کے مطابق تلف کیا جا سکے۔
قرارداد میں پرانے سولر پینلز کو غیر محفوظ طریقے سے پھینکنے کے عمل کو قابلِ سزا جرم قرار دینے اور خلاف ورزی کرنے والوں پر جرمانے عائد کرنے کی بھی سفارش کی گئی۔
پنجاب اسمبلی نے اس امر پر زور دیا کہ توانائی کے شعبے میں خود کفالت حاصل کرنے اور مستقبل میں ممکنہ ماحولیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے صوبے میں سولر پینلز اور جدید بیٹریز کی مقامی صنعت کے فروغ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔