ویب ڈیسک: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافے کا عندیہ دے دیا ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ وزیر اعظم کی ہدایات پر حکومت بچت اور کفایت شعاری کی پالیسی پر عمل کر رہی ہے، تاہم آنے والے دنوں میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
اجلاس کے دوران وزیر پٹرولیم ڈویژن نے بتایا کہ پاکستان میں اس وقت پانچ ریفائنری پلانٹس کام کر رہے ہیں جو کافی پرانے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو خام تیل فراہم کیا جا رہا ہے جس پر قیمتوں میں رعایت بھی دی گئی ہے، تاہم پاکستان کے تیل سے بھرے دو جہاز آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے ہیں۔
وزیر پٹرولیم ڈویژن کے مطابق یکم مارچ کو ڈیزل کی قیمت 88 ڈالر فی بیرل تھی جو 6 مارچ کو بڑھ کر 149 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ انہوں نے بتایا کہ جو کارگو پہلے سات لاکھ ڈالر میں دستیاب ہوتا تھا وہ اب تقریباً ستر لاکھ ڈالر میں مل رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایل پی جی ایران سے آتی ہے اور موجودہ صورتحال میں اس کی درآمد پہلے سے زیادہ ہو رہی ہے۔
اجلاس کے دوران سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے سوال اٹھایا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے آخر کس کو فائدہ پہنچایا گیا؟ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں غریب طبقہ 55 روپے تک کا اضافہ برداشت نہیں کر سکتا۔