برطانوی اسپیشل فورسز کے اہلکاروں پر جنگی جرائم کے سنگین الزامات، بی بی سی کی تہلکہ خیز رپورٹ

برطانوی اسپیشل فورسز کے اہلکاروں پر جنگی جرائم کے سنگین الزامات، بی بی سی کی تہلکہ خیز رپورٹ
کیپشن: برطانوی اسپیشل فورسز کے اہلکاروں پر جنگی جرائم کے سنگین الزامات، بی بی سی کی تہلکہ خیز رپورٹ

ویب ڈیسک: برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی نئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ برطانیہ کی اسپیشل فورسز (SAS اور SBS) کے سابق اہلکاروں نے عراق اور افغانستان میں جنگی جرائم کا ارتکاب کیا، جن میں نہتے شہریوں، بچوں اور ہتھکڑی لگے قیدیوں کو قتل کرنا شامل ہے۔

بی بی سی کے پروگرام ’پینوراما‘ میں 30 سے زائد سابق فوجی اہلکاروں نے گواہیاں دیں جنہوں نے ان جرائم کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ سابق اہلکاروں کا کہنا ہے کہ برطانوی فوجیوں نے ہتھیار ڈالنے والوں کو گولی ماری، بعض اوقات سوتے ہوئے افراد کو بھی قتل کیا گیا۔

ایک سابق SAS اہلکار نے بتایا، "انہوں نے ایک کمسن لڑکے کو ہتھکڑی لگائی اور گولی مار دی، وہ واضح طور پر ایک بچہ تھا، جنگ لڑنے کے قابل بھی نہیں تھا۔"

رپورٹ کے مطابق قتل کے بعد لاشوں کے پاس ہتھیار رکھ کر یہ ظاہر کیا جاتا تھا کہ مقتول مسلح تھا۔ ایک اور گواہی میں بتایا گیا کہ زخمی قیدی کو طبی امداد دی جا رہی تھی کہ ایک فوجی نے آ کر سر میں گولی مار دی۔

SBS کے ایک اہلکار نے کہا، "یہ قتل رحمدلی نہیں بلکہ سراسر قتل تھا۔ زخمی اور غیر مسلح افراد کو جان بوجھ کر مارا جاتا تھا، یہ سب کچھ کھلے عام ہوتا تھا۔"

سابق اہلکاروں کے مطابق ان کارروائیوں کی نہ صرف اعلیٰ کمان کو خبر تھی بلکہ کچھ کمانڈر انہیں نظر انداز کرتے رہے۔ برطانوی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ وہ ان الزامات کی تحقیقات کے لیے جاری عوامی انکوائری کی مکمل حمایت کرتی ہے اور تمام گواہوں سے سامنے آنے کی اپیل کرتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق سابق برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کو بھی دورانِ وزارت اس معاملے پر بارہا خبردار کیا گیا تھا کہ برطانوی اسپیشل فورسز عام شہریوں کو قتل کر رہی ہیں۔

Watch Live Public News