(ویب ڈیسک) منشیات کوئین انمول عرف پنکی کے منشیات کے نیٹ ورک لاہور سے چلائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
تفصیلات کے مطابق انمول عرف پنکی کو آن لائن آرڈ موصول ہوتے تھے ۔آن لائن منشیات کا آرڈر ملنے کے بعد پنکی رائیڈر ذریعے منشیات بھیجا کرتی تھی ۔ منشیات کی ترسیل کیلئے پنکی نے اپنے رائیڈر رکھے ہوئے تھے ۔
پنکی منشیات افغانستان ور بلوچستان کے راستے منگواتی تھی ۔ منشیات کی سپلائی یونیورسٹیز کالجرز، ڈانس پارٹیزسمیت شہر کے الیٹ کلاس میں سپلائی کی جاتی تھی ۔
پنکی کا نیٹ ورک لاہور میں بھی موجود ہے۔ پنکی آن لائن منشیات اسلام آباد میں بھی سپلائی کرتی ہے ۔ پنکی کا پہلا شوہرمنشیات کا سپلائرتھا۔دونوں کے درمیان لڑائی جھگڑوں کے باعث طلاق ہوئی بعدازاں پنکی کا شوہرملائشیا فرارہوگیا ۔ پنکی کو وفاقی حاساس داراے کی مدد سے گرفتار کیا گیا ۔
پولیس کی جانب سے ملزمہ انمول عرف پنکی کو پیشی کے وقت پروٹوکول دینے پر وزیرداخلہ نے سخت ایکشن لیا ،وزیر داخلہ نے آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو سے فوری رپورٹ طلب کرلی ۔
ایڈیشنل آئی جی آزاد خان نے واقعہ کانوٹس لیا اورڈی آئی جی ساوتھ فوری رپورٹ طلب کرلی ۔
انمول عرف پنکی کراچی کے علاقے میں ابوالحسن اصفانی روڈ کی رہائشی تھی ۔ پنکی کے والد نے دو شادیاں کررکھی تھیں، جبکہ پنکی کی ماں کا تعلق لاہور سے ہے ۔ پنکی اپنی ماں کی وجہ سے لاہور شفٹ ہوگئی تھی ۔
پنکی کے نیٹ ورک کے حوالے سے اہم انکشافات:
کراچی کی منشیات کوئین انمول عرف پنکی کے نیٹ ورک کے حوالے سے اہم انکشافات سامنے آئے ہیں ۔ پنکی کے منشیات فروشی کے نیٹ ورک میں دوخواتین سمیت 7 مرد بھی شامل ہیں۔
پنکی نیٹ ورک کے سرور، مجید، نادرخان،پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہوچکے ہیں ۔ پنکی نیٹ ورک میں پولیس اہلکار کامران بھی شامل ہے ۔ پنکی نیٹ ورک میں حرا، اور بی بو بھی شامل ہیں ۔ پنکی نیٹ ورک کا عدیل عرف وکی بھی پولیس کے ہاتھوں گرفتارہوچکا ہے ۔
پنکی نیٹ ورک کے عامر اور بلاول شیخ کو سائٹ اے پولیس نے گرفتار 3 ہزار آئس سمیت گرفتار کیا تھا ۔گرفتار ملزمان منشیات کی سپلائی یونیورسٹیز کالجرز، اور نجی انسٹیٹیوٹ میں کیا کرتے تھے ۔