ویب ڈیسک: جوڈیشل کمپلیکس میں ہونے والے خودکش دھماکے کی ابتدائی تحقیقات مکمل کر لی گئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق حملے میں 7 سے 8 کلوگرام بارودی مواد استعمال کیا گیا۔ دھماکے میں متعدد افراد شہید اور 36 زخمی ہوئے، جن میں سے 18 کو طبی امداد کے بعد اسپتال سے فارغ کر دیا گیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق خودکش حملہ آور کا تعلق باجوڑ سے تھا، جو جمعے کے روز اسلام آباد پہنچا۔ وہ پیر ودھائی سے موٹرسائیکل پر جی الیون کچہری آیا اور چادر اوڑھ کر داخلی مقام تک پہنچا۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق حملہ آور اکیلا تھا۔
تحقیقات میں بتایا گیا ہے کہ حملہ آور کے داخلے کے راستے کی نشاندہی کے لیے سیف سٹی کیمروں اور جدید ٹیکنالوجی سے مدد لی گئی۔ فرانزک اور جیو فینسنگ کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے، جبکہ ایک گاڑی اور موٹرسائیکل کو مشکوک قرار دیا گیا ہے۔ سہولت کاروں کی تلاش کے لیے مزید تفتیش جاری ہے۔
پمز اسپتال کے ترجمان کے مطابق دھماکے میں شہید ہونے والے 10 افراد کی شناخت ہو چکی ہے جبکہ دو افراد کی شناخت ابھی باقی ہے۔ سات میتوں کو پوسٹ مارٹم کے بعد ورثا کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
ترجمان کے مطابق زخمیوں کی کل تعداد 36 ہے، جن میں سے 18 زیر علاج ہیں جبکہ چار کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔