ویب ڈیسک: برازیل کی سپریم کورٹ نے ملک کے سابق صدر جائر بولسونارو کو 2022 کے انتخابات کے بعد اقتدار پر قبضے کی سازش کا مجرم قرار دیتے ہوئے 27 سال اور 3 ماہ قید کی سزا سنا دی۔ عدالت کے پانچ رکنی بینچ میں سے چار ججز نے سزا کے حق میں جبکہ ایک جج نے الزامات سے بری کرنے کے حق میں ووٹ دیا۔
سابق صدر بولسونارو اس وقت گھر میں نظر بند ہیں اور عدالتی کارروائی کے دوران پیش بھی نہیں ہوئے۔ ان کے وکیل نے فیصلے کو چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ اس معاملے کی سماعت فل کورٹ یعنی 11 ججز پر مشتمل بینچ کے ذریعے ہونی چاہیے۔ قانونی ماہرین کے مطابق یہ سزا برازیل کی سیاست اور مستقبل کے انتخابات پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
فیصلے کے بعد برازیل کے کئی شہروں میں بولسونارو کے حامیوں نے احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے۔ مظاہرین کا مؤقف ہے کہ عدالتی فیصلہ سیاسی انتقام کے مترادف ہے اور وہ اپنے رہنما کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ دوسری جانب حکومتی حلقے اس فیصلے کو جمہوریت کے تحفظ کی طرف اہم قدم قرار دے رہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ردعمل:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ بولسونارو کی سزا ’’مایوس کن‘‘ اور ’’غیر متوقع‘‘ ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ برازیل کے سابق صدر کے قریبی دوست ہیں اور انہیں یقین ہے کہ بولسونارو کے خلاف عدالتی فیصلہ انصاف کے تقاضوں پر پورا نہیں اترتا۔
یاد رہے کہ بولسونارو پر الزام تھا کہ انہوں نے 2022 کے انتخابات میں شکست کے بعد اقتدار پر قبضہ کرنے کی سازش تیار کی تھی، جس کے نتیجے میں برازیل میں سیاسی بحران پیدا ہوا تھا۔