پیغامِ ماضی: بلوچستان کے نواب و سردار اور پاکستان کے لیے قربانیوں کی داستان

پیغامِ ماضی: بلوچستان کے نواب و سردار اور پاکستان کے لیے قربانیوں کی داستان
کیپشن: پیغامِ ماضی: بلوچستان کے نواب و سردار اور پاکستان کے لیے قربانیوں کی داستان

ویب ڈیسک: 14اگست  وہ تاریخی دن  ہےجب برصغیر کے مسلمانوں کے آزاد اور خودمختار ریاست کا خواب حقیقت میں بدلا۔یومِ آزادی صرف جشن نہیں، قربانیوں کے تسلسل کی داستان ہے ۔یومِ آزادی تجدیدِ عہد کا دن ہے،یہ دن ہمیں ہمارے آباؤ اجداد کی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے۔

یوم آزادی معرکہ حق کے موقع پر پیغام ماضی دیتے ہوئے بلوچستان  سے تعلق رکھنے والے قاضی محمود الحسن نے اپنے پیغام میں کہا کہ  "مجھے بزرگوں اور والدین سے معلوم ہوا کہ جب قائد اعظم یہاں تشریف لائے تھے"۔قائد اعظم  نے میک موہن، جو اب صادق شہید پارک کے نام سے جانا جاتا ہے ، وہاں تاریخی تقریر کی۔قائدِ اعظم نے انگریزی میں تقریر کی، ان کی کرشماتی شخصیت نے سب کو  متاثر کیا۔جو لوگ انگریزی نہیں جانتے تھے، وہ بھی جذبے سے سن رہے تھے، جیسے دل کی بات ہو۔

قاضی محمود الحسن نے مزید کہا کہ نواب محمد خان جوگزائی اور جعفر خان نے پاکستان میں شمولیت کے لیے بھرپور کوشش کی۔اپنے میروں اور سرداروں کو قائل کرنا ان کے لیے آسان تھا کیونکہ سب دل سے پاکستان کے خواہشمند تھے۔وہ سب پاکستان کو اسلام کا قلعہ سمجھتے تھے اور آج بھی سمجھتے ہیں۔یہاں ٹاؤن ہال میں ووٹنگ ہوئی جہاں تمام نواب و سرداروں نے اجتماعی طور پر پاکستان کے حق میں ووٹ دیا۔

Watch Live Public News