(ویب ڈیسک ) جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ میں پیکا ایکٹ کے حوالے سے صحافیوں کی تائید کا اعلان کرتا ہوں ، پیکا ایکٹ " پھیکا ایکٹ " ہے ، ہمیں طاقت کے سامنے مرغوب نہیں ہونا ، ہم قدم قدم صحافیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔
پاکستان میں میڈیا کے بحران پر سیمینار میں علامہ ناصر عباس، محمود اچکزئی و صحافی رہنماؤں نے شرکت کی۔ مولانا فضل الرحمان بھی سیمینار میں شرکت پہنچے۔
پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے زیر اہتمام کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رانا عظیم نے کہا کہ ہم عوام کی جنگ لڑی رہے ہیں ، ہم نے پی ٹی آئی کے دور میں بھی پیکا ایکٹ کو ختم کروایا ،آئی ایف یو جے کی صدر پاکستان آئی ہیں ، حکومت کو اگر پتا چل جاتا تو وہ شاید انھیں نہ آنے دیتی۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے یا تو ہم جیتیں گے یا مریں گے ، اس ملک میں جمہوریت کے لیے ہم اعلان جنگ کرتے ہیں ، ہم کسی حکومت کے کبھی نہ غلام تھے نہ بنیں گے ، ہمیں آئین کے لیے اگر جان دینی پڑی تو دیں گے۔
حامد میر کا خطاب:
حامد میر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں صدر آئی ایف یو جے کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہتا ہوں ،ہمارے مہمان سوچ رہے ہوں گے یہ مرنے مارنے کو کیوں تیار ہیں ؟ ، پارلیمنٹ میں پیکا کا قانون بغیر بحث کے منظور ہو گیا ، اس قانون کے مطابق پاکستان میں مارشل لاء لگا دیا گیا ہے ، پہلے جس کو خبر سے نقصان ہوتا تھا وہ درخواست دہندہ ہوتا تھا ۔
انہوں نے کہا کہ اب کوئی بھی درخواست دے سکتا ہے ،سب کو پتا ہے وہ کوئی کون ہے ، جو صحافیوں کے گھر میں گھس کر انھیں اٹھاتے ہیں ، مارشل لاء میں خصوصی عدالتیں بنائی جاتیں ، اس قانون کے تحت بھی خصوصی عدالتیں بنائی جائیں گی ، ایسی عدالتیں وفاقی حکومت کے ماتحت ہوں گی ، اس قانون کے ذریعے ایک متوازی جوڈیشری کھڑی کر دی گئی ہے ۔
حامد میر نے کہا کہ قانون کو عدالتوں میں چیلنج کیا گیا ہے ، ہمیں لگتا ہے کہ شاید ہمیں عدالتوں سے انصاف نہیں ملے گا ،یہ قانون آئین پاکستان سے متصادم ہے ، یہ قانون پارلیمنٹ اور جوڈیشری سے متصادم ہے ، اس قانون کے مطابق کسی کو بھی سزا دی جا سکتی ہے ، پارلیمان اور جوڈیشری کمپرومائز ہو گئی۔
ارشاد عارف کا خطاب:
ارشاد عارف نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کسی صحافی کے خلاف نہیں سب پاکستانیوں کے لیے کالا قانون ہے ، یہ کوئی پہلی اور آخری کوشش نہیں ہے ، 1910 میں بھی انڈین پریس ایکٹ آیا تھا ، قائد اعظم نے کہا تھا میں ایسے ایوان میں بیٹھنا پسند نہیں کرتا کو کالا قانون منظور کرے ۔
انہوں نے کہا کہ فارم 47کی پارلیمنٹ ایسا کالا قانون منظور کر لیتی ہے ، وزیر اعظم نے اور وزیر اطلاعات نے وعدہ کیا کہ ہم مشاورت کریں گے ، 2016 میں اس قانون سے سب سے زیادہ نقصان ن لیگ کو ہوا، میڈیا ہی تھا جو اپنی اور سیاست دانوں کی جنگ لڑتا تھا ۔
ارشاد عارف نے کہا کہ اس ملک میں مارشل لاء لگے ، ایوب ،ضیا اور مشرف جیسے لوگ رہے ، وہ جب خائف ہوتے تھے تو پی سی او کے تحت نئے جج لے آتے تھے ، سیاسیت دانوں نے ہمیشہ میڈیا کا گلہ گھونٹنے کی کوشش کی۔
علامہ راجہ ناصر عباس کا خطاب:
علامہ راجہ ناصر عباس نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت مقننہ کا ستون گر چکا ہے ، عدلیہ بھی اس وقت اپنا وجود کھو چکی ، حکومت کا تو ویسے ہی کوئی حال نہیں ، یہ چاہتے ہیں کہ پاکستان کا معاشرہ گونگوں کا معاشرہ بنے ، ہمیں سچائی کے ساتھ کھڑا ہونا ہو گا ۔
انہوں نے کہا کہ ہم جب قاتل اور مقتول دونوں کے ساتھ ہوں گے تو نوحہ کا کوئی فائدہ نہیں ، اگر منافقت نہ کی جاتی تو کوئی قانون پاس نہ ہوتا ، یہاں کون ہے جس نے مارشل لاء لگا رکھا ہے ، یہ تحریک لازمی کامیاب ہو گی اور عوام جیتیں گے۔
مولانا فضل الرحمان کا خطاب:
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم آئی ایف یو جے کی صدر کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہتا ہوں ، پی ایف یو جے کا شکریہ ادا کرتا ہوں ، پیکا قانون آیا تو صحافیوں کا وفد مجھ سے ملا ، میں میڈیا سے شاکی رہتا ہوں ، میں نے کوشش کی کہ میں پیکا قانون کو سمجھوں ، میں نے سوچا اگر کچھ قابل اعتراض نہیں تو میں پیکا کی حمایت کروں ، اگر ایک جمہوری ملک میں میڈیا کا گلہ گھونٹا جا رہا تو میں اس سے اختلاف کروں ،ماضی میں ڈیکٹیٹز نے آزادی اظہار رائے پر ہاتھ ڈالا ، ماضی کی حکومتوں نے سب سے پہلے صحافیوں کو تابع کرنے کی کوشش کی۔
مولانا فضل الرحمان نے خطاب میں کہا کہ میں اعلان کرتا ہوں کہ صحافیوں پر قدغن کو نا منظور کرتا ہوں ، صحافیوں کی آزادی کے لیے آپ کے ساتھ کھڑا ہوں ، ماضی میں جب بھی تجویز آئی کی صحافیوں کے لیے ضابطہ اخلاق ہو ، میں نے مخالفت کی کہ صحافی خود اپنا ضابطہ بنائیں ۔
انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ صحافی اگر ضابطہ بنائیں تو حکومت سے بہتر بنائیں گے ، ہر آمر نے آئین ،جمہوریت اور پارلیمنٹ پر شب خون مارا ، چند ماہ قبل 26 ویں ترمیم کے نام پر جو کیا گیا اس کا ہم نے مقابلہ کیا ، عدلیہ کو اپنی لونڈی بنانے کی کوشش کی گئی ، ملٹری کورٹس بنا کر ماحول کو سکیڑا گیا ، ہم نے اس مسودے کو مسترد کر دیا تھا ، ہم سیاسی لوگ ہیں بات چیت پر یقین رکھتے ہیں ، 26 ویں ترمیم کے 56 کلاز تھے ، ہم نے حکومت کو 36 شقوں سے دستبردار کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ مجھے معلوم ہے کہ تین ماہ کی منصوبہ بندی کے بعد کچھ لوگوں کو انسٹال کیا گیا ، جب نئے قانون پر عملدرآمد ہوتا ہے تو مشکل پیش آتی ، ججز یا چیف جسٹس کی تقرری میں پارلیمنٹ کا کردار پوری دنیا میں ہے ، 19 ویں ترمیم پر اس کردار کو نکال دیا گیا تھا ، آج ہم نے پھر پارلیمان کا کردار شامل کیا ، اگر کوئی حکومت قانون کو غلط استعمال کرتی ہے تو اس کا راستہ روکنا چائیے ۔
مولانا نے کہا کہ ملٹری کورٹس کو ایکٹ کے تحت طاقتور کیا گیا ، جو چیزیں ہم سے وہ نہ منوا سکتے وہ اپنی اکثریت کی بنیاد پر کر رہے ، انھیں پارلیمنٹ اور آئین کی روح کا احترام نہیں ، پی ٹی آئی اور جے یو آئی کو لڑانے اور تقسیم کرنے کی کوشش کی گئی ، ہمارے دو صوبوں کی صورتحال نازک ہے ، وہ انتظامی لحاظ سے پاکستان سے کٹ چکے ہیں، وہاں پر حکومت کی رٹ ختم ہو چکی ۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اسلام آباد کے کھیل سے یہ فارغ ہوں گے تو ملک کا سوچیں گے ، کچھ لوگ صرف اپنی اتھارٹی کی جنگ لڑتے ہیں ، انھیں ملک کی کوئی پرواہ نہیں کہ وہ قبول ہیں کہ نہیں ، سیاستدان عوامی رائے کو لے کر چلتا ہے اس کو ختم کیا جا رہا۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ میں پیکا ایکٹ کے حوالے سے صحافیوں کی تائید کا اعلان کرتا ہوں ، پیکا ایکٹ " پھیکا ایکٹ " ہے ، ہمیں طاقت کے سامنے مرغوب نہیں ہونا ، ہم قدم قدم صحافیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔
حلیم عادل شیخ کا خطاب:
حلیم عادل شیخ نے خطاب میں کہا کہ لگتا ہے ملک میں عدل و انصاف کو دفن کیا گیا ہے، ہر قیدی کا حق ہے وہ اپنے عزیزوں سے ملے، بانی پی ٹی آئی کا آئینی و قانونی حق ہے وہ اپنے کارکنوں سے ملیں، ہم ملاقاتوں میں رکاوٹوں پر عدالت سے رجوع کرینگے۔
انہوں نے کہا کہ میں فوکل پرسن کی ہدایت پر کراچی سے اڈیالہ جیل پہنچا ہوں، 26 ویں آئینی ترمیم کے بعد ملک میں بچا کھچا انصاف بھی ختم ہوچکا ہے۔
اسد قیصر کا خطاب:
اسد قیصر نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پیکا ایکٹ کو پاس کرنے کے لیے ضروری تھا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بیٹھا جاتا ، اس قانون کو پاس کرتے وقت کوئی بھی پروسیجر فالو نہیں کیا گیا ، اتنی جلدی کیوں تھی بغیر بحث کے پاس کروا لیا گیا ۔
انہوں نے کہا کہ 8 فروری کا مینڈیٹ قوم نے جس کو دیا اس کو محروم رکھا گیا ، عوام نے جن کو ریجکٹ کیا وہ آج پارلیمنٹ میں بیٹھے ہیں ، اگر تمام اسٹیک ہولڈرز متفق ہوں تب قانون پاس کرانا بنتا تھا ، عدالتوں سے اس وقت کسی کو کوئی امید نہیں کہ انصاف ملے گا ، جس جج نے ہمت کی ان کو پیچھے کردیا گیا ۔
اسد قیصر نے کہا کہ ہم آج ایگزیکٹو کے خلاف بات نہیں کر سکتے جو بات کرے گا اس کے خلاف مقدمہ درج ہوگا ، ہم اس وقت صحافی برادری کے ساتھ کھڑے ہیں، وزیر قانون وضع دار آدمی ہیں لیکن وہ بار کو استعمال کر رہے ، شہباز شریف کو تو کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن انھیں سوچنا چاہیئے۔ آزادی اظہار رائے کی آزادی کی جنگ سب نے مل کر لڑنی ہے۔
آئی ایف جے کی صدر ڈومینیکا پارڈلی کا خطاب:
انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹ کی صدرڈومینیکا پارڈلی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں پی ایف یو جے کے عہدیداران کو مبارکباد پیش کرتی ہوں ، صحافی سچ کے لیے جدو جہد کرتے ہیں ، صحافی ہر ملک میں جمہوریت کے لیے کوشاں ہیں ، صحافیوں کے پاس یہ حق ہے کہ وہ معلومات حاصل کریں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال 122 صحافیوں کو قتل کیا گیا، آئی ایف جے نے غزہ میں بھی صحافیوں کے لیے کام کیا ، ہم یہ کہتے ہیں کہ صحافیوں کا قتل عام بند کیا جائے۔
پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلٹس الیکشن :
پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے اسلام آباد میں الیکشن، وقاص باقر پی ایف یوجےکی ایگزیکٹو کونسل کےرکن منتخب ہوگئے۔
پی ایف یوجےالیکشن کےنتائج کا اعلان کردیا گیا۔ انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس کی صدر ڈومینک پارڈلےنےنتائج کا اعلان کیا۔
راناعظیم پی ایف یوجےکےصدر، شکیل احمد جنرل سیکریٹری ، اکبر جعفری نائب صدر منتخب ہوگئے۔جنید خانزادہ نائب صدر، رافع حسین فاروقی اسسٹنٹ سیکریٹری پی ایف یوجےمنتخب ہوگئے۔ عاجز جمالی، منیر ساقی، میاں شاہد ندیم بھی ممبر ایگزیکٹو کونسل پی ایف یوجےمنتخب ہوگئے۔