(ویب ڈیسک ) وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ2018 میں دہشتگرد ی کے ناسور کا خاتمہ ہوگیا تھا۔دوبارہ اس ناسور نے سر کیوں اٹھایا۔انہوں نے کہا کہ امن کیلئے تمام فریقین کو کردار ادا کرنا ہوگا۔اگر دہشتگردی کے ناسور کو ختم نہ کیا تو پاکستان کے وجود کو خطرہ ہوسکتا ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے بلوچستان میں امن و امان کے حوالے سے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ3دن پہلے بولان میں دہشتگردوں نے ٹرین میں موجود مسافروں کو یرغمال بنایا, سانحہ جعفر ایکسپریس پر پوری قوم اشکبار ہے، 400 سے زائد نہتے لوگوں کو یرغمال بنایا گیا۔ایسا واقعہ پاکستان کی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا۔ویرانے میں مسافر بے یار و مددگار بیٹھے تھے، ٹرین میں فوجی جوان بھی موجود تھے، دہشت گردوں سے نمٹنے کیلئے کثیر الجہتی حکمت عملی بنائی گئی۔
انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کے آپریشن کے ذریعے 339 جانوں کو بچایا گیا۔آپریشن میں 33 دہشتگردوں کو ہلاک کیا گیا۔پاکستان اب کسی دوسرے ایسے حادثے کا متحمل نہیں ہو سکتا ہے، اس کیلئے سب کو اپنا حصہ ڈالنا ہو گا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی جب تک دوسرے صوبوں کی طرح نہیں ہوتی تب تک وہ پاکستان کی ترقی نہیں ہوگی،جب تک کے پی کے اور بلوچستان میں دہشت گردی ختم نہیں ہوگی، ملک ترقی نہیں کر سکتا۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ سوال یہ ہےکہ جب ملک میں دہشت گردی کا سرکچلا جا چکا تھا، تو پھر دہشت گردوں نے دوبارہ سرکیوں اٹھایا ہے؟ بدقسمتی سے اس واقعے پر جس طرح سے ایک طبقے نےگفتگو کی اسے زبان پر بھی نہیں لایا جاسکتا، ملک دشمنوں کے بیانیےکو جس طرح ہمارے مشرقی ہمسائے ملک نے چلایا اس پر افسوس ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں ایسے طالبان کو بھی رہا کیا گیا جن کے کردار سیاہ تھے، ملک اور پاکستان کی فوج کے خلاف زہر اُگلا جا رہا ہے۔