جوہری مذاکرات کے دوران امریکا کی ایران پر مزید پابندیاں

جوہری مذاکرات کے دوران امریکا کی ایران پر مزید پابندیاں
کیپشن: جوہری مذاکرات کے دوران امریکا کی ایران پر مزید پابندیاں

ویب ڈیسک: امریکا نے ایران کے جوہری پروگرام پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں، یہ اقدام ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان نیا جوہری معاہدہ طے کرنے کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق نئی امریکی پابندیوں کا ہدف تین ایرانی شہری اور ایران کا ایک تحقیقی ادارہ ہے، جن کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کے تعلقات تہران کی تنظیم "آرگنائزیشن آف ڈیفینسو انوویشن اینڈ ریسرچ" (SPND) سے ہیں۔

پابندیوں کے تحت ان افراد اور ادارے کے امریکا میں موجود اثاثے منجمد کر دیے گئے ہیں اور ان کے ساتھ کسی بھی قسم کے کاروباری لین دین پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران ایسے منصوبوں پر کام کر رہا ہے جو جوہری ہتھیاروں اور ان کے نظامِ ترسیل میں استعمال ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کا رویہ مذاکرات کی روح کے منافی ہے۔

یہ پابندیاں ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے چوتھے دور کے ایک روز بعد سامنے آئی ہیں۔ ان مذاکرات کا مقصد ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے کے لیے ایک نیا معاہدہ طے کرنا ہے۔

دوسری جانب ایران نے بارہا جوہری ہتھیار بنانے کی تردید کی ہے اور اس کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

Watch Live Public News