نیپالی وزیراعظم بالن شاہ کا بھارتی سیکریٹری خارجہ سے ملاقات سے انکار! بھارت کیلئے سفارتی دھچکا

نیپالی وزیراعظم بالن شاہ کا بھارتی سیکریٹری خارجہ سے ملاقات سے انکار! بھارت کیلئے سفارتی دھچکا

(ویب ڈیسک)دی کٹھمنڈو پوسٹ نے اپنے اداریے میں رپورٹ کیا کہ بھارتی سیکریٹری خارجہ وکرم مسری کا مجوزہ دورہ نیپال اُس وقت منسوخ ہوگیا جب نیپالی وزیراعظم سے ملاقات کے لیے اُن کی بار بار کی گئی درخواستوں کا کوئی جواب نہ ملا۔ نیپال کے وزیراعظم بالن شاہ نے 11 تا 12 مئی کے مجوزہ دورۂ کٹھمنڈو کے دوران بھارتی سیکریٹری خارجہ وکرم مسری سے ملاقات سے انکار کردیا۔ اس واقعے نے نیپال کی خارجہ پالیسی پر بحث چھیڑ دی ہے جہاں بعض حلقے اسے دوطرفہ تعلقات میں خودمختار برابری کو ترجیح دینے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔

بھارتی سیکریٹری خارجہ وکرم مسری کو وزیراعظم بالن شاہ سے ملاقات کے لیے وقت  نہ دینا نیپال اور بھارت کے درمیان ایک اہم سفارتی تنازع بن گیا ہے۔ یہ واقعہ کٹھمنڈو میں ابھرتی ہوئی سیاسی تبدیلی کی علامت ہے۔

    بالن شاہ کے اقتدار میں آنے کے بعد نیپال میں ایک ایسی آزاد قومی شناخت کے مطالبات مضبوط ہوئے ہیں جو روایتی بھارتی سیاسی اثرورسوخ اور دباؤ سے آزاد ہو۔

دہائیوں تک بھارت نے جغرافیہ، معاشی انحصار اور سیاسی اثرورسوخ کی بنیاد پر نیپال میں ایک اسٹریٹجک برتری قائم رکھی۔ حالیہ واقعہ اس سوچ کو براہِ راست چیلنج کرتا ہے۔

خودمختار سفارتی پروٹوکول اور مساوی سطح پر روابط پر زور دے کر کٹھمنڈو نے واضح کیا کہ نیپال اب خود کو بھارت کے علاقائی دائرۂ اثر کا تابع ملک نہیں سمجھتا۔

وکرم مسری کے دورے کا ملتوی ہونا جنوبی ایشیا میں نئی دہلی کے طویل عرصے سے قائم بالادستانہ رویے کے لیے ایک سفارتی دھچکا ہے۔

یہ پیش رفت کالاپانی، لیپولیکھ اور لمپیادھورا جیسے متنازع سرحدی علاقوں پر نیپال اور بھارت کے درمیان بڑھتی کشیدگی کی بھی عکاس ہے جو نیپال میں قوم پرستانہ جذبات کو مزید تقویت دے رہی ہے۔

نیپال کی نوجوان سیاسی قیادت اور عوام اسٹریٹجک خودمختاری کو بیرونی مداخلت کے خلاف مزاحمت، متبادل عالمی شراکت داریوں اور بھارت سمیت بڑی طاقتوں کے ساتھ برابری کی سطح پر تعلقات سے جوڑ رہے ہیں۔

یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ جنوبی ایشیا کی سیاست اب درجہ بندی پر مبنی علاقائی نظم سے نکل کر خودمختاری اور عوامی رائے پر مبنی سفارتی تعلقات کی طرف بڑھ رہی ہے۔

Watch Live Public News