سینیٹ نے 27ویں آئینی ترمیم کی نئی ترامیم کی منظوری دیدی

سینیٹ نے 27ویں آئینی ترمیم کی نئی ترامیم کی منظوری دیدی
کیپشن: 27ویں آئینی ترمیمی بل کانیا مسودہ سینیٹ میں پیش کردیا گیا

ویب ڈیسک: سینیٹ نے 27 ویں آئینی ترمیم کی نئی ترامیم کو دو تہائی اکثریت سے منظور کرلیا۔

سینیٹ کا اجلاس چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی سربراہی میں ہوا جس میں  27 ویں آئينی ترمیم کا نیا متن پیش کیا گیا۔

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے 27 ویں ترمیم کے نئے متن کو سینیٹ میں پیش کیا جس کے بعد ترامیم کو شق وار منظور کیا گیا۔

چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت سینیٹ کا اجلاس جاری ہے۔

وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے 27 ویں آئینی ترمیمی بل سینیٹ میں پیش کر دیا، اپوزیشن ارکان نے ڈیسک بجا کر احتجاج کیا۔

قومی اسمبلی سے منطور کردہ 27ویں آئینی ترمیمی بل سینیٹ کو موصول ہوگیا ہے، قومی اسمبلی سے منظور کردہ بل 56 شقوں پر مبنی ہے، سینیٹ میں 56 نکات والا بل پیش ہوگا، سینیٹ میں 8 شقوں کی منظوری دی جائے گی۔

27 ویں آئینی ترمیم میں آرٹیکل 255 میں ترمیم کو حذف کردیا گیا، آرٹیکل 214،آرٹیکل 168 کی شق دو میں ترمیم بھی حذف کردی گئی، آرٹیکل 42 میں ترمیم بھی حذف کر دی گئی، چاروں ترامیم کی 27 ویں آئینی ترمیم میں سینیٹ نے منظوری دی تھی۔

قومی اسمبلی نے اضافی ترامیم کے ذریعے ان کو حذف کیا، آرٹیکل 6 کی شق ٹو اے،آرٹیکل 10 کی شق ٹو اے میں ترمیم کی گئی، آرٹیکل 176 اور آرٹیکل 260 میں اضافی ترامیم کی گئیں، اضافی ترامیم میں چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے کو واضح کیا گیا، آرٹیکل 6 کی شق 2اے میں وفاقی آئینی عدالت کو شامل کیا گیا، قومی اسمبلی میں 27ویں آئینی ترمیم میں 8اضافی ترامیم کی گئیں تھی۔

قومی اسمبلی سے منظور ہونے والی اضافی ترامیم کو سینیٹ سے بھی منظور کروالیاگیا، قومی اسمبلی نے سینیٹ سے منظور 4ترامیم کو حذف کیا جبکہ 3میں اضافی ترامیم کیں، قومی اسمبلی نے آرٹیکل 6کی شق 2اے میں نئی ترمیم کو بھی منظور کیا۔

اس کے علاوہ وفاقی کابینہ کا اجلاس بھی آج طلب کیا گیا ہے جس میں کابینہ آئینی ترامیم کی روشنی میں قوانین میں تبدیلیوں کی منظوری دے گی۔

گزشتہ روز 27 ویں آئينی ترمیم قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت سے منظور کی گئی، 27 ویں ترمیم کی منظوری کے لیے حکومت کے پاس درکار 224 سے زیادہ 234 ارکان موجود تھے تاہم جے یو آئی ف نے مخالفت میں ووٹ دیا۔

Watch Live Public News