ری سائیکلنگ کےبغیر کاریں دھونےپرنجی ہاؤسنگ سوسائٹیز ذمہ دار ہوں گی،عدالت

ری سائیکلنگ کےبغیر کاریں دھونےپرنجی ہاؤسنگ سوسائٹیز ذمہ دار ہوں گی،عدالت
کیپشن: ری سائیکلنگ کےبغیر کاریں دھونےپرنجی ہاؤسنگ سوسائٹیز ذمہ دار ہوں گی،عدالت

ویب ڈیسک: سموگ تدارک کیس میں لاہورہائیکورٹ کے جسٹس شاہدکریم نے ریمارکس دیئے کہ ری سائیکلنگ کے بغیر کاریں دھونے پر نجی ہاؤسنگ سوسائٹیز کو ذمہ دار ٹھرایا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق سموگ تدارک کیس کی سماعت  لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم  نے کی۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ کار واش اور پیٹرول پمپس پر ری سائیکلنگ پلانٹس نہ لگانے پر ایک لاکھ روپے جرمانہ خوش آئند ہے،ری سائیکلنگ کے بغیر کاریں دھونے پر نجی ہاوسنگ سوسائٹیز کو ذمہ دار ٹھرایا جائے گا،تعمیرات کے لئے زمین سے پینے کا پانی نکالنے پر پابندی کی ترجیحات ہونی چاہئیں۔ عدالت نے  تمام نجی ہاؤسنگ سوسائٹیز کو بھی نوٹس بھجوانے کا حکم دے دیا۔

  عدالت نے مزید ریمارکس دیئے کہ روڈا کودی جانے والی پانچ ہزار ایکٹر سے زیادہ محکمہ جنگلات کی اراضی واپس لینی چاہئیے۔

ممبر جوڈیشل کمیشن نے کہاکہ روڈا کے سٹاف نہ ہون کی وجہ سے زمین سے ریت نکال لی جا رہی ہے،ریت نکلنے سے اس زمین کا زیادہ برا حال ہو گیا ہے،اس معاملہ کا سینئیر وزیر نے نوٹس لیا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز غیر قانونی / غیر منظور شدہ کار واش / سروس اسٹیشنوں کی فوری بندش کا حکم دیا گیا تھا۔تمام کار واش اسٹیشنوں پر 28 فروری 2025 تک واٹر ری سائیکلنگ سسٹم اور یو چینلز کی تنصیب لازمی قرار دیا گیا تھا۔

خلاف ورزی پر 1 لاکھ روپے جرمانہ اور کار واش ایریا سیل ہوگا۔ گاڑیوں کی آئل واشنگ پر مکمل پابندی ہوگی۔گھروں میں کار دھونے اور ہوز پائپ کے استعمال پر پابندی۔ خلاف ورزی پر 10 ہزار روپے جرمانہ ہوگا۔

لان، باغات، گالف کورسز اور گرین بیلٹس میں زیادہ پانی کے بہاؤ پر پابندی ہوگی۔تعمیراتی کاموں میں زیر زمین پانی کے استعمال پر پابندی لگا دی گئی ہے۔صرف سطحی یا ری سائیکل شدہ پانی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ خلاف ورزی کی صورت میں پاکستان پینل کوڈ (PPC) کی دفعہ 188 کے تحت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ڈی جی ادارہ تحفظ ماحول کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔

Watch Live Public News