ویب ڈیسک :جرمنی کے شہر میونخ میں جمعرات کے روز گاڑی سے کچل کر 30 افراد کو زخمی کر دینے والے شخص کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ فرہادنوری جرائم پیشہ افغانی نکلا۔ سانحہ سے پہلے ٹک ٹاک پر تصویر پوسٹ کی۔
اس سلسلے میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ 24 سالہ افغان حملہ آور کا نام فرہاد نوری ہے اور وہ ایک شوقیہ تن ساز ہے۔ فرہاد 2001 میں کابل میں پیدا ہوا۔ سوشل میڈیا پر ٹک ٹاک اور انسٹاگرام پر میونخ واقعے سے قبل فرہاد کی آخری تصویر نظر آئی ہے۔
تصویر میں فرہاد اس گاڑی کے برابر کھڑا مسکرا رہا ہے جس کے ذریعے اس نے میونخ میں ایک مظاہرے میں شریک افراد پر گاڑی چڑھا دی تھی۔ زخمی ہونے والے 30 افراد میں ایک دو سالہ بچہ بھی شامل ہے جس کی حالت تشویش ناک ہے۔
یہ بات بھی معلوم ہوئی ہے کہ فرہاد ایک سیکورٹی کمپنی میں کام کرتا تھا فارغ اوقات میں تن سازی کے مقابلوں میں حصہ لیتا تھا۔
ٹک ٹاک اور انسٹاگرام پر فرہاد کے ایک لاکھ سے زیادہ فالوور ہیں۔
جرمن حکام نے گذشتہ روز اعلان کیا تھا کہ مذکورہ افغان نوجوان نے سیاسی پناہ طلب کی تھی تاہم اس کی درخواست مسترد کر دی گئی۔ وہ منشیات اور چوری کے الزامات میں مقامی پولیس کے ریکارڈ میں معروف ہے۔
جرمن اخبار "بیلڈ" کے مطابق اس بات کا بھی امکان ہے کہ فرہاد شدت پسندی پر مبنی پس منظر رکھتا تھا۔
جرمن وزیر داخلہ کے مطابق فرہاد 2016 میں جرمنی پہنچا تھا۔ اگرچہ فرہاد کی پناہ کی درخواست مسترد کر دی گئی تھی تاہم اسے عارضی قیام اور کام کرنے کے لیے پرمٹ دے دیا گیا جس کی مدت اپریل 2025 تک ہے۔ اس
سے قبل میونخ شہر سے چند گھنٹوں کی مسافت پر واقع اشایونبورگ ٹاؤن میں تین ہفتے قبل چھرے سے حملے کا ایک واقعہ پیش آیا تھا۔ حملہ ایک 28 سالہ افغان نے کیا جس کی پناہ حاصل کرنے کی درخواست مسترد کر دی گئی تھی۔
دسمبر 2024 میں میگڈیبورگ شہر میں گاڑی سے کچلنے کا واقعہ پیش آیا تھا جب ایک سعودی ڈاکٹر نے اپنی گاڑی کو کرسمس مارکیٹ میں لوگوں کے مجمع پر چڑھا دیا تھا۔ اس کے نتیجے میں 6 افراد ہلاک اور 200 سے زیادہ زخمی ہو گئے تھے۔
تقریبا 8 سال قبل برلن میں کرسمس کے موقع پر ایک مارکیٹ میں اسی نوعیت کا حملہ کیا گیا تھا۔