ویب ڈیسک: بھارتی حکومت نے انسداد دہش تگر دی اور سیکیورٹی اقدامات کے نام پر مقبوضہ وادی میں ایک نیا فوجی آپریشن "شیوہ 2025" شروع کر دیا ہے، جسے امرناتھ یاترا کے تحفظ کے لیے ضروری قرار دیا جا رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق مودی سرکار کا پہلگام فالس فلیگ کی ہزیمت مٹانے کے لیے ایک بار پھر مقبوضہ وادی میں آپریشن شیوہ کا آغاز ہوگیا۔مودی کی جانب سے فوجی اقدامات انسداد دہش تگر دی کے لیے نہیں بلکہ سیاسی جنگ کے ہتھیار ہیں،مودی سرکار مذہبی رسومات اور حفاظتی انتظامات کی آڑ میں مقبوضہ وادی میں فوجی موجودگی کو جواز فراہم کر رہی ہے۔
بھارتی اخبار دی ٹریبیون کے مطابق امرناتھ یاترا کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے آپریشن شیوہ 2025 شروع کیا گیا ہے، پاکستان سے مقبوضہ وادی میں دراندازی روکنے کے لیے 8,500 سے زائد بھارتی فوجی تعینات کیے گئے،اودھم پور اور کشتواڑ میں حالیہ جھڑپیں عسکری شدت پسندی کی علامت ہیں،راجوری، پونچھ، ڈوڈہ اور کشتواڑ میں 40 سے 50 پاکستانی عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاعات ہیں۔
بھارت فرضی خطرات گھڑ کر پاکستان کو بدنام اور مقبو ضہ وادی امن دشمن ثابت کرنا چاہتا ہے،بھارتی فوج کے مستقل آپریشنز مقبوضہ وادی پر زبردستی مسلط ہونے کی علامت ہیں، یاترا کی آڑ میں بھارت نے مقبوضہ وادی کو مکمل فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر دیا ہے اگر آپریشن سندور کامیاب تھا تو اب دوبارہ ہزاروں فوجی مقبوضہ وادی میں کیوں تعینات کیے جا رہے ہیں؟ مودی سرکار امرناتھ یاترا کو سیاسی مقصد کے لئے استعمال کر کے مقبوضہ وادی کی شناخت مٹا رہی ہے۔