ویب ڈیسک: متحدہ عرب امارات نے دبئی کی بندرگاہ جبل علی پر انحصار کم کرنے اور آبنائے ہرمز کے متبادل تجارتی راستے کی فراہمی کے لیے مشرقی ساحل پر نئی کثیرالمقاصد بندرگاہ تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق دبئی کی بندرگاہوں کا انتظام سنبھالنے والی اماراتی کمپنی ڈی پی ورلڈ ریاست فجیرہ میں نئی بندرگاہ کی تعمیر کا منصوبہ تیار کر رہی ہے، جس کا مقصد ملکی تجارتی سرگرمیوں کو زیادہ محفوظ اور مستحکم بنانا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس منصوبے کے تحت متحدہ عرب امارات دبئی کی جبل علی بندرگاہ پر انحصار کم کرنے کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز کے متبادل راستے کو بھی فروغ دینا چاہتا ہے۔ یہ اقدام ایران کے ساتھ جاری علاقائی کشیدگی کے تناظر میں امارات کی اس حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد ملکی معیشت اور سپلائی چین کو ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھنا ہے۔
منصوبہ مکمل ہونے کے بعد کنٹینرز آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر متحدہ عرب امارات میں داخل اور بیرونِ ملک روانہ کیے جا سکیں گے، جس سے تجارتی سرگرمیوں میں تسلسل برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔
رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد دبئی کی جبل علی بندرگاہ کی سرگرمیوں میں 90 سے 95 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد ڈی پی ورلڈ نے متبادل بندرگاہ کی تعمیر کا فیصلہ کیا۔
کمپنی کے ایک سینئر عہدیدار کا کہنا ہے کہ اگر منصوبہ مقررہ شیڈول کے مطابق جاری رہا تو نئی بندرگاہ تقریباً ڈیڑھ سال میں مکمل کر لی جائے گی۔