مشرقی پڑوسی پاکستان میں دہشت گردی کا مین اسپانسر ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

 مشرقی پڑوسی پاکستان میں دہشت گردی کا مین اسپانسر ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر
کیپشن: جعفر ایکسپریس حملہ: ڈی جی آئی ایس پی آر آج اہم پریس کانفرنس کریں گے

ویب ڈیسک : پاکستان کی مسلح افواج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ دہشت گرد جعفر ایکسپریس کا واقعہ بھارت کی دہشت گرد ذہینت کا تسلسل ہے ، مشرقی پڑوسی پاکستان میں دہشت گردی کا مین اسپانسر ہے، جعفر ایکسپریس پر حملے کے بعد بھارتی میڈیا جعلی اے آئی ویڈیوز کے ذریعے پروپیگنڈا کرتا رہا اور دہشت گردوں کی پروپیگنڈا ویڈیوز دنیا کو دکھاتا رہا، دہشت گردی کی پوری کارروائی کے دوران دہشت گرد افغانستان میں اپنے ہینڈلر سے مسلسل رابطے میں تھے۔

تفصیلات کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان سردار سرفراز بگٹی نے کہا کہ سانحہ جعفر ایکسپریس کی تفصیلات شیئر کریں گے، سیکیورٹی فورسز کے کامیاب آپریشن پر سراہتے ہیں، بلوچستان میں جعفر ایکسپریس کا دہشت گردی واقعہ ہوا۔

سرفراز بگٹی نے مزید کہا کہ بلوچ روایات میں اس طرح کے واقعات کو بری نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، دہشت گردوں نے بلوچ روایات کو پامال کیا، ان دہشت گردوں کا بلوچ قوم سے کوئی تعلق نہیں، دہشت گردی کی جنگ کا بلوچوں اور حقوق سے کوئی تعلق نہیں، ایسے واقعات پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔

وزیراعلٰی بلوچستان سرفراز بگٹی کہتے ہیں دہشتگردوں پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں،عالمی برادری نے سانحہ جعفر ایکسپریس کی مذمت کی جس پر شکر گزار ہیں۔

 اس موقع پر ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ واقعہ دشوار گزار پہاڑی علاقے میں پیش آیا، واقعہ جہاں ہوا وہاں کوئی موبائل سگنل کام نہیں کرتا، جائے وقوعہ کے قریب ایف سی کا پکٹ بھی تھا، واقعے میں ابتدائی طورپر تین ایف سی کے جوان شہید ہوئے۔

ترجمان پاک فوج نے بتایا کہ دہشت گردوں نے خواتین کو ٹرین میں رکھا باقیوں کو باہر لے آئے، دہشت گردوں نے ٹولیوں کی صورت میں معصوم شہریوں کو باہر رکھا، دہشت گردی کے دوران بھارتی میڈیا بھرپور پروپیگنڈا کررہی تھی، مصنوعی ذہانت کی مدد سے بھارتی میڈیا رپورٹنگ کرتا رہا۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ جس علاقے میں واقعے ہوا وہاں پہنچنا مشکل تھا، جائے وقوعہ سے بھارتی میڈیا پر چلنے والی فوٹیجز اے آئی کی تھی، بھارتی میڈیا ایک بیانیے کے تحت پروپیگنڈا کرتا رہا، سوشل میڈیا سے پرانی فوٹیجز اٹھا کر بھارتی میڈیا چلاتا رہا۔دہشتگرد افغانستان میں اپنے ہینڈلرز سے رابطے میں تھے،کچھ یرغمالیوں کو موقع ملا تو وہ وہاں سے بھاگ نکلے۔

انہوں نے مزید کہا کہ 11 تاریخ ایک بجے کے قریب جعفرایکسپریس پر پہلا دھماکا ہوا، ان دہشت گردوں کا نا بلوچ اور نا پاکستان سے تعلق ہے، ان دہشت گردوں کا انسانیت سے بھی تعلق نہیں۔

قبل ازیں سرفراز بگٹی نے واقعے کی مذمت کی اور کہا کہ بلوچ کے نام پر حملہ کرنے والوں کا بلوچ قوم سے کوئی تعلق نہیں انہیں بلوچ نہ کہا جائے۔واقعے کے دوران دہشت گرد افغانستان میں موجود ماسٹر مائنڈ سے رابطے میں تھے، 12 مارچ کی صبح قریب موجود سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کی، دہشت گرد کئی گروپوں میں تھے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی فورسز کی کارروائی سے بیشتر دہشت گردوں کو بھاگتے بھی دیکھا گیا، دہشت گردوں نے ٹولیوں میں خودکش حملہ آور بھی بٹھا رکھے تھے، ضرار کمپنی نے ان ٹولیوں سے خودکش حملہ آوروں کو مہارت سے مارا، ضرار کمپنی نے دہشت گردوں کو پناہ گاہوں سے نکلنے پر مجبور کیا، ضرار کے نوجوان سب سے پہلے انجن کا ٹیک اوور سنبھالتے ہیں، انجن کے بعد تمام بوگیوں کو کلیئر کیا گیا۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ آپریشن کے دوران کسی بھی یرغمالی کو کوئی نقصان نہیں ہوا، دہشت گردوں نے آپریشن سے پہلے کچھ یرغمالیوں کو شہید کیا، آپریشن اتنی مہارت سے کیا کہ کسی ایک بھی یرغمالی کی جان نہیں گئی، آپریشن کے دوران پہاڑوں سے سیکیورٹی فورسز پر فائرنگ بھی کی گئی، دہشت گردوں کے پاس غیرملکی اسلحہ موجود تھا، سیکیورٹی فورسز نے یرغمالیوں کو باحفاظت وہاں سے نکالا۔

ٹرین ڈرائیور نے بتایا کہ بی ایل اے والوں نے سب سے پہلے انجن کو نشانہ بنایا، میں نے فوری ایمرجنسی لگائی دیکھا تو بی ایل اے آگئی تھی، پاک فوج کا شکر کہ انہوں نے معصوم جانوں کو بچایا۔

متاثرہ ٹرین کے مسافر نے کہا کہ پاک فوج کی بدولت تمام مسافروں کی جان بچ سکی، ایف سی اہلکاروں نے طبی امداد بھی دی، حادثے کے فوری بعد ایف سی والوں نےہمیں وہاں سے نکالا۔

واقعے کا پس منظر

واضح رہے کہ 11 مارچ کو کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس پر حملے اور 440 مسافروں کو یرغمال بنانے کے بعد کلیئرنس آپریشن میں 33 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا جبکہ 21 مسافر اور جوان شہید ہوگئے۔

ٹرین صبح ساڑھے نو بجے کوئٹہ سے روانہ ہوئی، جب ٹرین گڈالار اور پیرو کنری کے علاقے سے گزری تو وہاں نامعلوم مسلح افراد نے ٹرین پر فائرنگ کر دی۔

دہشت گردوں نے پہلے یرغمالیوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا، جس میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے۔

Watch Live Public News