ویب ڈیسک: پاکستانی عوام خبردار ہوشیار، پانی کی برانڈڈ بوتلیں سوچ سمجھ کر استعمال کریں،وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کی ہوشربا رپورٹ سامنے آ گئی۔
رپورٹ کے مطابق بوتلوں میں بند پینے کے پانی کی 27 برانڈز کو کیمیائی اور مائیکروبائیولوجیکل معیارات کی بنیاد پر غیر محفوظ قرار دیا گیا ہے،پینے کے پانی سمیت 173 مصنوعات کیو سی اے کی لازمی اشیاء کی فہرست میں شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پی سی آر ڈبلیو ار کو بھیجے گئے سیمپلز کی تعداد 176 ہے،مجموعی برانڈز کی تعداد 194 ہے،غیر محفوظ برانڈز کی تعداد 27 ہے،دو برانڈز کے لائسنس پی ایس کیو سی اے نے منسوخ کر دیئے۔غیر قانونی پیداوار کے 6 یونٹوں کو پی ایس کیو سی اے کی جانب سے نوٹسز جاری کردیئے گئے ہیں،متعدد شہروں میں منرل واٹر کے نام پر غیر معیاری پانی کی فروخت، شہر اقتدار بھی شامل ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور، ملتان، سرگودھا، ساہیوال فیصل آباد، کوئٹہ میں غیر معیاری منرل واٹر کی فروخت جاری ہے،ٹنڈو جام، گوجرانوالہ، بدین، سیالکوٹ، ڈی آئی خان، بہاولپور، کراچی لاہور، میانوالی، مظفرآباد، گلگت اور سکھر میں غیر معیاری پانی کے برانڈ پائے گئے۔غیر معیاری برانڈز میں ایس ایس واٹر، ون پیور ڈرنکنگ واٹر، انڈس، سپ سپ پریمیم ڈرنکنگ واٹر شامل ہے۔
رپورٹ کے مطابق میران ڈرنکنگ واٹر، ڈی نووا، پاک ایکوا، سکائی رین، جیٹ بوٹل واٹر ، نیو، ایلسٹن، پیور واٹر، ڈریم پیور، ایکوا شارو پیور ڈرنکنگ واٹر بھی شامل ہے۔ایکوا ہیلتھ، اوزلو، ماروی، آئیس ویل، اے کے بی سکائی، ہنزہ اٹر واٹر بھی غیر معیاری برانڈز میں شامل ہے جبکہ قراقرم اسپرنگ واٹر، مور پلس، ایسنشیا، پریمیم صفا پیوریفائیڈ واٹر، اور آل، نیچرل پیور واٹر، لائف ان بھی غیر معیاری برانڈز میں شامل ہے۔