ویب ڈیسک: برطانوی روزنامہ دی ٹیلی گراف نے رپورٹ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کو انسانی یا سیاسی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، جنگ کے حوالے سے ہیگسیتھ کا مؤقف جارحانہ ہے اور وہ دشمن کو کچلنے اور طویل جنگ لڑنے کے دعوے کرتے ہیں، جبکہ صدر ٹرمپ معتدل یا متضاد بیانات دیتے نظر آتے ہیں۔ میڈیا کے مطابق اس موقف میں فرق ممکنہ طور پر دانستہ حکمت عملی ہو سکتا ہے تاکہ اگر حالات خراب ہوں تو صدر خود بری الذمہ رہیں۔
دی ٹیلی گراف کے مطابق، امریکی صدر نے ایران کے ساتھ جنگ کے فیصلے کی وضاحت ذاتی فون گفتگو میں کی، اور غیر منظم بیانات سے پیدا ہونے والے خلا کو ہیگسیتھ نے بھر دیا۔
برطانوی میڈیا نے مزید کہا کہ مہنگی جنگ کی نمائندگی کرنے پر ہیگسیتھ شدید سیاسی دباؤ میں ہیں، اور وائٹ ہاؤس نے انہیں میڈیا پروگرامز میں جنگ کا چہرہ بنا کر پیش کیا۔ سابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ٹرمپ ممکنہ طور پر ہیگسیتھ کو سیاسی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں، جبکہ پینٹاگون میں ڈین کین نسبتاً پرسکون اور محتاط انداز میں نظر آتے ہیں۔