(ویب ڈیسک ) دنیا کی سب سے بڑی نام نہاد جمہوریت میں گودی میڈیا کو کھلی چھوٹ دیدی گئی۔
مودی سرکار میں سچ بولنے یا حکومتی بیانیے سے اختلاف کی جرأت کرنے والے کو خاموش کرا دیا جاتا ہے۔بھارت میں نہ صرف ملکی بلکہ غیر ملکی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بھی مودی سرکار کی پابندی کی زد میں آگئے۔
بھارت میں چین اور ترکی کے حقائق پر مبنی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز مکمل بلاک کردیے گئے۔ گلوبل ٹائمز، شنوا نیوز اور ٹی آر ٹی ورلڈ جیسے معروف چینلز کو بھارت میں پابندی کا سامنا ہے۔
مودی کی آزادی صحافت پر حملے کے خلاف سکھ تجزیہ کار بھی بول اٹھے۔ سکھ تجزیہ کار نے کہا کہ مودی ہندوتوا کا سپورٹر ہے، مودی سرکار سے اپنی ہار تسلیم نہیں ہو پا رہی، جب کوئی مودی سرکار کو آئینہ دکھاتا ہے تو وہ ان میڈیا پلیٹ فارمز کو بند کر دیتی ہے، مودی سرکار مشکل میں پھنس چکی ہے۔
آزادی صحافت پر مودی کا تسلط بھارت میں جمہوریت کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔