(دانش منیر)"پنجاب ایسڈ کنٹرول ایکٹ 2025" کے ڈرافٹ کی منظوری دے دی گئی۔
تفصیلات کے مطابق نئے قانون میں بغیر لائسنس تیزاب کی فروخت ناقابل ضمانت جرم قرار دیدی گئی۔پنجاب میں تیزاب کی غیر قانونی فروخت پر 3 سال قید 5 لاکھ جرمانہ ہوگا۔ لائسنس کے باوجود فروخت میں لاپرواہی برتنے پر 2 سے 5 سال قید اور 2 سے 10 لاکھ جرمانہ ہوگا۔
نئے قانون کے مطابق تیزاب گردی کے شکار افراد کو معاوضہ بھی دیا جائے گا۔ تیزاب کی پیکنگ، نقل و حمل اور فروخت کے دوران کنٹینر پر احتیاطی تدابیر واضح درج کرنا لازم قرار دیا گیا ہے۔
قانون کے مطابق پیکنگ پر تیزاب کی قسم، حجم، مقدار، لائسنس ہولڈر کی تفصیلات درج کرنا لازم قرار دیا گیا ۔
قبل ازیں تیزاب کی نقل و حمل، ذخیرہ، خرید و فروخت کے حوالے سے کوئی قانون موجود نہیں تھا۔ تیزاب گردی کے شکار افراد کی زندگیوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچتا ہے۔
تیزاب کے خرید و فروخت کے کاروبار کو ریگولیٹ کرنے کیلئے نیا قانون لایا جا رہا ہے۔ ایکٹ میں تیزاب کی 30 اقسام کو ریگولیٹ کیا گیا ہے۔
قانون میں ڈپٹی کمشنرز کو تیزاب کے کاروبار کیلئے لائسنس دینے کی اتھارٹی دی گئی ہے، قانون ایم پی اے حنا پرویز بٹ نے بطور پرائیویٹ ممبر بل پیش کیا ۔
اسٹینڈنگ کمیٹی برائے داخلہ کی ہدایت پر محکمہ داخلہ اور محکمہ قانون نے ایکٹ کا حتمی مسودہ تیار کیا۔ پنجاب اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے داخلہ نے پنجاب ایسڈ کنٹرول ایکٹ 2025 کی منظوری دی۔
اسٹینڈنگ کمیٹی سے منظوری کے بعد قانون کو اسمبلی فلور پر پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔محکمہ داخلہ پنجاب صوبہ بھر میں قانون کا اطلاق کروائے گا۔