ویب ڈیسک : خلیج میکسیکو یا خلیج امریکا، تنازع طول پکڑ گیا، وائٹ ہاؤس نے اے پی کے رپورٹرز کیلئے صدر ٹرمپ کی رپورٹنگ پر غیرمعینہ مدت کی پابندی لگادی ۔
ایسوسی ایٹڈ پریس، جو دنیا کے سب سے بڑے خبر رساں اداروں میں سے ایک ہے کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نیوز کوریج سے روک دیا گیا ہے اب اے پی رپورٹرز اوول آفس یا صدارتی طیارے ’ ایئر فورس ون’ میں نہیں جاسکیں گے۔
یہ بھی پڑھیں :خلیج میکسکیو کیوں نہیں کہتے، ایسوسی ایٹڈ پریس کا رپورٹر وائٹ ہاؤس سے نکال دیا
یادرہےصدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا تھا جس کے بحت خلیج میکسیکو کا نام بدل کر "خلیج امریکا" رکھ دیا گیا ۔ تبدیلی امریکی سرکاری اداروں میں فوری نافذ العمل ہے۔ لیکن دنیا کےدوسرے ممالک اس نئے نام کو تسلیم نہیں کرتے ہیں، اور AP کے دنیا بھر میں کلائنٹ ہیں اس لئے اے پی صدر ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر کو تسلیم کرنے کے باوجود خلیج میکسیکو کا حوالہ دینے پر مجبور ہے ۔
یادرہےدیگر عالمی خبر رساں اداروں نے بھی ایسے ہی فیصلے کیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں :جو خلیج امریکا نہیں کہے گا اس رپورٹر کو سزا دینے کا حق ہے، وائٹ ہاؤس
لیکن اس ہفتے وائٹ ہاؤس نے اے پی کو کے نامہ نگاروں اور رپورٹرز کو وائٹ ہاؤس سے باہر نکال دیا تاہماے پی کے فوٹوگرافروں کو ابھی بھی شرکت کی اجازت تھی تاہم موجودہ احکامات کے بعد اے پی پر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے۔
ایکس پر ایک بیان میں، ڈپٹی چیف آف اسٹاف ٹیلر بڈووچ نے خلیج میکسیکو نام کے تنازع کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اے پی کا فیصلہ "صرف تفرقہ انگیز نہیں ہے، بلکہ یہ ایسوسی ایٹڈ پریس کی غلط معلومات کے عزم کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔"
بڈووچ نے لکھا، "جبکہ غیر ذمہ دارانہ اور بے ایمان رپورٹنگ کے ان کے حق کو پہلی ترمیم کے ذریعے محفوظ کیا گیا ہے، لیکن یہ اوول آفس اور ایئر فورس ون جیسی محدود جگہوں تک بلا روک ٹوک رسائی کے ان کے استحقاق کو یقینی نہیں بناتا۔
اے پی نے جمعہ کے بیان کے بارے میں تبصرہ کرنے کی درخواست کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔