جو خلیج امریکا نہیں کہے گا اس رپورٹر کو سزا دینے کا حق ہے، وائٹ ہاؤس

White House says it has the right to punish AP reporters over Gulf naming dispute
کیپشن: White House says it has the right to punish AP reporters over Gulf naming dispute
سورس: google

ویب ڈیسک :جو خلیج امریکا کو تسلیم نہیں کرے گا اس رپورٹر کو سزا دینے کا حق ہے وائٹ ہاؤس کا کھلم کھلا اعلان ۔

  وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے پریس بریفنگ کے دوران کہا ہے کہ "یہ ایک حقیقت ہے کہ لوزیانا کے ساحل  کے علاقے کو   خلیج امریکا کہا جاتا ہے، اور  پتہ  نہیں خبر رساں ادارے اسے کیوں نہیں کہنا چاہتے۔

  وائٹ ہاؤس نے  مزید کہا کہ وہ خبر رساں ادارے جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا خلیج میکسیکو کے لیے نیا نام استعمال کرنے سے انکار کرتے ہیں وہ "جھوٹ" بول رہے ہیں   کیرولین لیویٹ نے اصرار کیا کہ وہ ایسوسی ایٹڈ پریس کے صحافیوں کو صدارتی تقریبات میں شرکت سے روکتی رہیں گی۔

 یادرہے منگل کو، اے پی کے  رپورٹرز کو اوول آفس اور وائٹ ہاؤس کے سفارتی استقبالیہ کمرے میں ہونے والی تقریبات میں شرکت سے روک دیا گیا۔  اسی طرح  اوول آفس میں قومی انٹیلی جنس ڈائریکٹر کے طور پر تلسی گبارڈ کی حلف برداری کے لیے منعقدہ ایک تقریب  میں شرکت کیلئے آنیوالے اے پی رپورٹر کو باہر نکال دیا گیا۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اوول آفس تک رسائی ایک اعزاز ہے۔ کیرولین لیویٹ نے کہا، "کسی کو بھی اوول آفس میں جانے اور ریاستہائے متحدہ کے صدر سے سوالات کرنے کا حق نہیں ۔" "ہم یہ فیصلہ کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں کہ اوول آفس میں کس کو جانا ہے۔"

 یادرہے وائٹ ہاؤس کے واقعات کو کور کرنے  کے لئے صحافیوں کے ایک چھوٹے سے پول کو اندر جانے کی اجازت ہوتی ہے۔  اور اے پی روایتی طور پر اس پول کا حصہ رہی ہے۔

 دوسری طرف بڑے میڈیا اداروں نے  جن میں نیو یارک ٹائمز واشگٹن پوسٹ شامل ہے  خلیج میکسیکو کا نام استعمال جاری رکھنے کا   اعلان کیا ہے۔ جبکہ فاکس نیوز نے کہا کہ وہ  اتوار سے  اپنی تمام نیوز ریفرنس میں میں خلیج امریکا کانام استعمال استعمال کرے گا۔

Watch Live Public News