شیخ حسینہ واجد کی بھانجی برطانوی وزیر ٹیولپ صدیق مستعفی

Tulip Siddiq quits after ethics adviser rules she misled public
کیپشن: Tulip Siddiq quits after ethics adviser rules she misled public
سورس: google

 ویب ڈیسک : برطانیہ کی وزیر برائے انسداد بدعنوانی اور بنگہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی بھانجی ٹیولپ صدیق کرپشن کے الزامات پر مستعفی ہو گئی ہیں۔ سر کئیر سٹارمر کا ٹیولپ کو فون ، خدمات پر خراج تحسین ، لیبر ارکان پارلیمنٹ نے استعفے کا خیر مقدم کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ٹیولپ صدیق کے خلاف شیخ حسینہ واجد کے ساتھ مالی معاملات رکھنے پر کئی ہفتوں سے تحقیقات جاری تھیں۔ 

 وزیر اعظم کئیر سٹارمر کے مشیر برائے اخلاقیات سر لوری میگنس   کی جانب سے استعفے کے مشورے کے بعد  ٹیولپ صدیق  س نےمنگل کے روز انسداد بدعنوانی کی وزیر کے عہدے سے استعفیٰ دیدیا۔وزیراعظم کو لکھے گئے خط میں،  ٹیولپ صدیق نے اعتراف کیا کہ وہ حکومت کے ایجنڈے میں ایک "خرابی" بن گئی ہیں کیونکہ انہیں بدعنوانی کے بڑھتے ہوئے الزامات کا سامنا تھا۔

ان کا استعفیٰ بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم، ان کی خالہ شیخ حسینہ کی زیرقیادت سیاسی جماعت سے ان کے تعلقات پر ہفتوں کے تنازعات کے بعد ہوا۔

دو ماہ کے دوران دو وزرا کا استعفیٰ وزیراعظم کیئر سٹارمر کی حکومت کے لیے دھچکا ہے، اور گذشتہ برس جولائی میں لیبر پارٹی کی الیکشن میں کامیابی کے بعد اس کی حکومت کی مقبولیت میں کمی واقع ہوئی ہے۔
ٹیولپ صدیق کو انتخابات کے بعد برطانوی کابینہ میں مالیاتی خدمات کی پالیسی کا قلم دان سونپا گیا تھا، منی لانڈرنگ کے خلاف اقدامات کرنا ان کی ذمہ داری میں مشتمل تھا۔
وزیراعظم کیئر سٹارمر نے فوری طور پر وزیر پنشن ایما رینالڈز کو ٹیولپ صدیق کی جگہ مالیاتی خدمات کی پالیسی کا قلم دان سونپ دیا ہے۔

روسی جوہری معاہدہ
ٹیولپ صدیق پر الزام ہے کہ انہوں نے 2013 میں بنگلہ دیش اور روس کے درمیان ایک معاہدہ کروانے میں کردار ادا کیا جس کے بعد بنگلہ دیش میں رُوپ پاور جوہری پلانٹ کی مجموعی لاگت میں اضافہ ہوا۔


بنگلہ دیش کے انسداد بدعنوانی کمیشن کا کہنا ہے کہ روس کی معاونت سے 12 ارب 50 کروڑ ڈالر سے بننے والے روپ پور جوہری پاور پلانٹ میں شیخ حسینہ واجد اور ان کے خاندان نے پانچ ارب ڈالر کی خرد برد کی ہے۔

اس سال وہ شیخ حسینہ کی سربراہی میں ایک وفد کے ساتھ اس معاہدے پر باضابطہ دستخط کرنے کے لیے کریملن گئی اور ولادیمیر پوتن کے ساتھ تصویر کھنچوائی گئی۔ ٹیولپ صدیق نے موقف اختیارکیا کہ وہ اپنی خالہ سے ملنے کے لیے ذاتی دورے پر تھیں اور معاہدے ک میں ان کا "کوئی عمل دخل نہیں" تھا۔
شیخ حسینہ واجد اور ان کی پارٹی عوامی لیگ کی جانب سے ان الزامات کی تردید کی گئی ہے۔
ٹیولپ صدیق شیخ حسینہ واجد کی ہمشیرہ شیخ ریحانہ کی بیٹی ہیں۔ حسینہ واجد نے اپنی حکومت کے خلاف طلبہ کی تحریک شروع ہونے کے بعد پانچ اگست 2024 کو بنگلہ دیش چھوڑ کر پڑوسی ملک انڈیا میں پناہ لے لی تھی۔

یاد رہے ٹیولپ صدیق ، جو وزیر اعظم سٹارمر  کی ذاتی دوست ہیں، نے اپنا نام  کرپشن کیس میں آنے کے باعث ازخود  تحقیقات کے لئے کیس مشیر برائے اخلاقیات سر لوری میگنس کو بھیج دیا تھا۔

’عوام کوگمراہ کیا گیا‘

تاہم، سر لاری نے قرار دیا کہ اس نے عوامی لیگ سے تعلق رکھنے والے شخص کی طرف سے تحفے کے طور پر ایک فلیٹ کے حوالے سے عوام کو "نادانستہ طور پر گمراہ" کیا تھا۔ لینڈ رجسٹری فارم پر دستخظ کرنے کے باوجود وہ فلیٹ کی اصل ملکیت سے بے خبر رہیں۔ انہیں زیادہ محتاط ہونا چاہئیے تھا۔

وزیربرائے انسداد بدعنوانی ٹیولپ  صدیق نے شروع میں دعویٰ کیا کہ2004 میں  اس کے والدین نے اسے کنگز کراس، شمالی لندن میں اپارٹمنٹ خرید کر دیا تھا تاہم اب  انہوں نے تسلیم کیا کہ دو بیڈ روم والا گھر، جس کی مالیت اب £700,000 ہے، درحقیقت اسے بنگلہ دیشی پراپرٹی ڈویلپر عبدالمطلیف نے تحفے میں دیا تھا۔ یہ گھر انہوں نے کرائے پر دےرکھا ہے۔ 

 عوامی لیگ سے منسلک لندن میں متعدد جائیدادیں ٹیولپ صدیق کے زیر استعمال رہیں ۔اس وقت بھی وہ ایسٹ فنچلے میں £2.1 ملین کا  گھر میں  کرائے پر رہ رہی ہیں جو بنگلہ دیشی سیاسی پارٹی عوامی لیگ کے یوکے ونگ کے ایک ایگزیکٹو ممبر کی ملکیت ہے۔ وہ ایک ایسے فلیٹ میں بھی رہتی رہی ہیں جو ان کی بہن کوعوامی لیگ کے ایک وکیل نے تحفے میں دیا تھا۔

لیبر پارٹی کی جانب سے استعفے کا خیر مقدم

سر لوری کی جانب سے  رپورٹ 10 ک ڈاؤننگ اسٹریٹ کے حوالے کیے جانے کے بعد  جب استعفے کا فیصلہ کرلیا گیا تو وزیراعظم سر کیر نے  ٹیولپ صدیق سے فون پر بات کی  اور ان کی خدمات کے لئے انہیں خراج تحسین پیش کیا۔لیبر ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے استعفیٰ کا خیر مقدم کیا گیا۔سینئر شخصیات نے کہا کہ یہ ایک اچھی اور خوش آئند بات ہے۔


 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
  
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

Watch Live Public News