ایران کیخلاف حملے میں امریکا کون سے ہتھیاراستعمال کرسکتا ہے؟

ایران کیخلاف حملے میں امریکا کون سے ہتھیاراستعمال کرسکتا ہے؟
کیپشن: ایران کیخلاف حملے میں امریکا کون سے ہتھیاراستعمال کرسکتا ہے؟

ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف ایک بار پھر ممکنہ فوجی کارروائی کی دھمکیوں کے بعد عالمی سطح پر یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ اگر امریکا نے واقعی حملہ کیا تو وہ کن عسکری ذرائع اور ہتھیاروں کا استعمال کر سکتا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ گزشتہ برس ایرانی جوہری تنصیبات پر کیے گئے امریکی حملے کو ایک بڑی فوجی کامیابی قرار دیتی رہی ہے، جس میں امریکی فضائیہ کے بی ٹو بمبار طیاروں نے دنیا کے طاقتور ترین غیر جوہری بم استعمال کرتے ہوئے اہم جوہری مراکز کو نشانہ بنایا تھا۔ اس کارروائی میں نہ تو کسی امریکی اہلکار کو نقصان پہنچا اور نہ ہی کوئی طیارہ تباہ ہوا۔

تاہم سی این این کے مطابق موجودہ صورتحال اس سے مختلف ہے۔ اس بار ٹرمپ ایران میں سخت گیر حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکلنے والے لاکھوں مظاہرین کی حمایت کے تناظر میں ممکنہ فوجی کارروائی کا عندیہ دے رہے ہیں۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر کوئی نیا حملہ کیا گیا تو وہ گزشتہ سال کے محدود اور ایک وقتی آپریشن جیسا نہیں ہوگا بلکہ اس کا دائرہ کہیں زیادہ وسیع ہو سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق مظاہرین کی حمایت میں کی جانے والی کسی بھی امریکی کارروائی کا ہدف ایرانی پاسدارانِ انقلاب، فورس اور پولیس سے منسلک کمانڈ سینٹرز اور سیکیورٹی ڈھانچے ہو سکتے ہیں، کیونکہ یہی ادارے احتجاجی تحریک کو دبانے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ ان میں سے اکثر مراکز گنجان آباد علاقوں میں واقع ہیں، جس کے باعث شہری ہلاکتوں کا شدید خدشہ موجود ہے۔ ایسی صورت میں امریکی مؤقف کو عالمی سطح پر نقصان پہنچنے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اس بار بی ٹو بمبار طیارے مرکزی کردار ادا کرنے کا امکان کم ہے۔ ان کے بقول ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے علاقائی ہیڈکوارٹرز اور فوجی اڈوں کو ٹوماہاک کروز میزائلوں کے ذریعے نشانہ بنایا جا سکتا ہے، جو امریکی بحریہ کی آبدوزوں اور جنگی جہازوں سے دور رہتے ہوئے داغے جاتے ہیں۔ ان میزائلوں کی نشانہ بازی انتہائی درست ہوتی ہے اور اس طریقے سے امریکی اہلکاروں کو بھی کم خطرہ لاحق ہوتا ہے۔

اس کے علاوہ امریکا جوائنٹ ایئر ٹو سرفیس اسٹینڈ آف میزائل کے استعمال کا بھی اختیار رکھتا ہے، جو ایک ہزار پاؤنڈ وزنی گہرائی میں مار کرنے والا وارہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور تقریباً ایک ہزار کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ یہ میزائل فضائیہ اور بحریہ کے مختلف طیاروں سے بغیر ایرانی فضائی حدود میں داخل ہوئے فائر کیا جا سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ڈرونز کے استعمال کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا جا رہا، تاہم قریبی فاصلے سے بم گرانے والے پائلٹ بردار طیاروں کا استعمال انتہائی خطرناک تصور کیا جاتا ہے، اس لیے اس آپشن کو کم ترجیح دیے جانے کا امکان ہے۔

عموماً مشرق وسطیٰ میں امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کی موجودگی دیکھی جاتی ہے، مگر موجودہ صورتحال میں قریبی امریکی کیریئر ہزاروں میل دور جنوبی بحیرۂ چین میں موجود ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی فوری کارروائی کی صورت میں حملہ خلیجی ممالک میں قائم امریکی فضائی اڈوں سے یا طویل فاصلے سے اڑان بھرنے والے طیاروں کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔ گزشتہ برس بھی بی ٹو بمبار طیارے امریکی ریاست میزوری سے بغیر رکے ایران تک گئے تھے اور دورانِ پرواز ایندھن بھروایا گیا تھا۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکا نے اس بار حملہ کیا تو وہ نمایاں، ڈرامائی اور عالمی میڈیا کی توجہ حاصل کرنے والا ہوگا، تاہم اس کا دورانیہ مختصر رکھا جائے گا۔ ان کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ ایسے فوجی آپریشنز کو ترجیح دیتی ہے جن میں امریکی افواج کو کم سے کم خطرہ لاحق ہو اور کارروائی جلد مکمل کر لی جائے۔

ایک اور امکان یہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ امریکا ایرانی تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنا سکتا ہے، خصوصاً خلیج فارس میں واقع مراکز کو۔ ماہرین کے مطابق یہ ہدف نہ صرف نسبتاً آسان اور محفوظ ہو سکتا ہے بلکہ اس سے ایران کو درمیانی اور طویل مدت میں شدید معاشی نقصان بھی پہنچے گا، جبکہ آگ کے شعلے اور دھواں عالمی میڈیا میں نمایاں کوریج حاصل کرنے کا باعث بن سکتے ہیں۔

Watch Live Public News