تاشقند ( ویب ڈیسک ) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ازبکستان ہمارے سمندری تجارتی راستوں کے ذریعے پوری دنیا کے ساتھ کاروباری تعلقات قائم کر سکتا ہے، جہاں پر آپ کیلئے بہت بڑی کاروباری مارکیٹ ہے، جبکہ پاکستاا زبکستان کے ذریعے سنٹرل ایشیا تک جا سکتا ہے، میری پہلے بھی ازبکستان کے صدر سے بات ہوئی پاکستان اور ازبکستان یکساں طور پر افغانستان میں امن عمل پر بہت گہری نظر رکھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ افغانستان میں سیاسی عمل جلد مکمل ہو، افغانستان کے ذریعے یہ رابطہ دونوں ممالک کیلئے فائدہ مند ہو گا۔ ازبکستان کے دورہ کے موقع پر ایک اعلیٰ سطحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان اور ازبکستان کی عوام آپس میں روحانی ، ثقافتی اور تاریخی طور پر جڑے ہوئے ہیں، ہمارے درمیان یہ روابط کئی صدیوں پرانے ہیں اور بطور تاریخ کے طالبعلم کے میں یہ جانتا ہوں کہ اس تاریخی ملک کا کیا مقام ہے۔میں ازبکستان کے کاروباری طبقے اور وزیر اعظم آپ کو یہ یقین دلانا چاہتا ہے کہ آپ کے ساتھ تعلقات کا یہ صرف آغاز ہے ، میں امید کرتا ہوں کہ یہ تعلق بڑھے گا ،میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ پاکستان میں میرے اس دورے کو لیکر کتنا جوش پایا جاتا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ جب میں آج صبح جہاز پر سوار ہو رہا تھا تو میرے موبائل فون کئی بڑی کاروباری کمپنیوں کی طرف سے کئی شکایات تھیں جنہیں میں اس دورے پر ساتھ نہیں لا سکا، ازبکستان آنے کیلئے پاکستان کے کاروباری طبقے میں بہت جوش ہے، پاکستان اور ازبکستان کے تعلقات کا انحصار اس بات پر ہے کہ کتنا جلد ہم آپس میں تعلقات قائم کرتے ہیں، ٹرانز افغان ریلوے پاکستان اور ازبکستان کے لئے بہت اہم منصوبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب یورپی یونین بنائی گئی تو میں انگلینڈ میں بطور میں کرکٹر کے موجو تھا ، میں نے دیکھا کہ کئی یورپی ممالک کے معیار زندگی یورپی یونین بننے کے بعد بہتر ہوا۔ جب ممالک کی اپنے ہمسائیوں کے ساتھ تجارت میں اضافہ ہوتا ہے تو عوام کے معیار زندگی میں بھی بہتری آتی ہے۔ اس لئے یہ دورہ ہمارے لئے بہت اہمیت کا حامل ہے،میرے دورے کا ایک مقصد سمرقند اور بخارا کا دورہ بھی ہے ، جیسا کہ میں نے کہا کہ میں تاریخ کا طالبعلم ہوں تو شاید ازبکستان کی تاریخ بہت سے ازبکستان میں رہنے والوں سے بھی زیادہ جانتا ہوں ۔