تنخواہ دار افراد کے لیے خوشخبری: انکم ٹیکس فائلنگ کا نیا آسان آن لائن نظام متعارف

تنخواہ دار افراد کے لیے خوشخبری: انکم ٹیکس فائلنگ کا نیا آسان آن لائن نظام متعارف
کیپشن: تنخواہ دار افراد کے لیے خوشخبری: انکم ٹیکس فائلنگ کا نیا آسان آن لائن نظام متعارف

ویب ڈیسک: حکومت نے انکم ٹیکس فائلنگ کو تنخواہ دار افراد کے لیے نہایت آسان بنا دیا ہے، جس کے بعد اب ٹیکس ریٹرن جمع کرانا ایک سادہ اور خودکار عمل بن گیا ہے۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ایک نیا آن لائن فارم متعارف کرایا ہے جو آپ کی تنخواہ، خریداری، بینک اکاؤنٹس اور دیگر مالی معلومات خود بخود اکٹھا کرے گا۔ صارف کو صرف اپنی تفصیلات چیک کرنی ہیں اور فارم جمع کرانا ہے — نہ کسی ماہر کی ضرورت، نہ پیچیدہ حساب کتاب۔

نیا فارم کیسے کام کرے گا؟

یہ فارم صرف آٹھ مرحلوں پر مشتمل ہے۔ ہر مرحلے میں ایک آسان سوال کیا جائے گا، اور جواب دینے کے بعد نظام باقی معلومات خود شامل کر لے گا:

جیسے ہی آپ اپنے دفتر یا ادارے کا نام درج کریں گے، سسٹم آپ کی تنخواہ اور کٹنے والا ٹیکس خود ظاہر کرے گا۔
شناختی کارڈ نمبر داخل کرنے پر، آپ کی تمام رجسٹرڈ خریداری، یوٹیلیٹی بلز، اور بینک تفصیلات از خود فارم کا حصہ بن جائیں گی۔
بینک اکاؤنٹ کی معلومات شامل کرتے ہی آپ کا بیلنس بھی خودکار طور پر ظاہر ہوگا۔

یہ سہولت کن کے لیے ہے اور کب دستیاب ہوگی؟

فی الحال یہ فارم صرف تنخواہ دار افراد کے لیے جاری کیا گیا ہے۔
اردو زبان میں ورژن جولائی کے آخر تک دستیاب ہوگا۔
جلد ہی پنجابی، سندھی، پشتو اور بلوچی زبانوں میں بھی ترجمہ فراہم کیا جائے گا۔
کاروباری افراد اس فارم سے 30 جولائی کے بعد فائدہ اٹھا سکیں گے۔
انکم ٹیکس فائل کرنے کی آخری تاریخ 30 ستمبر ہے۔

ریفنڈ میں بھی آسانی

وزیراعظم شہباز شریف نے ایف بی آر کو ہدایت کی ہے کہ 50 ہزار روپے تک کے انکم ٹیکس ریفنڈز ایک ماہ کے اندر جاری کیے جائیں۔ اس مقصد کے لیے 10 ارب روپے مختص کر دیے گئے ہیں۔

رہنمائی کے لیے ہیلپ لائن بھی ہوگی

وزیراعظم نے ایف بی آر کو ہدایت کی ہے کہ ایک ہیلپ لائن قائم کی جائے جہاں شہری فون کر کے رہنمائی حاصل کر سکیں۔

خودکار نظام، شفاف عمل

ٹیکس نظام کو جدید بنانے کے لیے حکومت نے مصنوعی ذہانت (AI) اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال شروع کر دیا ہے، تاکہ نظام تیز، محفوظ اور شفاف بنایا جا سکے۔

اب ٹیکس فائل کرنا اتنا ہی آسان ہو گیا ہے جتنا کسی ایپ میں بل چیک کرنا۔ بس 30 ستمبر کی ڈیڈ لائن ذہن میں رکھیں اور فائدہ اٹھائیں اس خودکار، آسان اور تیز سسٹم سے۔

Watch Live Public News