یوکرین جنگ ،لگتا ہے ڈیل ہوجائے گی، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا پوٹن کو فون

POTUS phone to putin deal is on
کیپشن: POTUS phone to putin deal is on
سورس: google

ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا روسی ہم منصب کو فون۔۔لگتا ہے ڈیل ہوجائے گی، یوکرین جنگ بند نہ ہوئی تو تیسری جنگ عظیم ہوگی۔ امریکی صدر نے وارننگ دیدی۔

 رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ انھوں نے اپنے روسی ہم منصب ولادی میر پوتن کے ساتھ بات کی ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ محسوس کر رہے ہیں کہ روس ان کے ملک کے ساتھ ڈیل کر لے گا۔

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھیں روس سے بہت اچھی خبریں ملی ہیں۔

اس سے قبل امریکی صدر کا کہنا تھا کہ وہ پوتن کو یوکرین جنگ ختم کرنے پر قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں مگر معاملہ آسان نہیں ہے۔ ٹرمپ کے مطابق سابق صدر جو بائیڈن نے ملک کو روس کے ساتھ حقیقی تنگی میں ڈال دیا۔

اس سے قبل روسی صدر ولادی میر پوتن نے روس امریکی تعلقات کی بحالی کے عمل کو "مشکل" قرار دیا تھا تاہم ان کا کہنا تھا کہ "صورت حال تبدیل ہونا شروع ہو گئی ہے"۔

روسی سیکورٹی کونسل کے اجلاس میں پوتن کا کہنا تھا کہ "ٹرمپ انتظامیہ روس اور امریکا تعلقات کی بحالی کے لیے سب کچھ کر رہی ہے۔ یہ کام اگر مشکل نہیں رہا تو آسان بھی نہیں"۔

پوتن کے مطابق انھوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کو مطلع کر دیا ہے کہ "اگر یوکرین کے فوجی ہتھیار ڈال دیتے ہیں تو ان کی زندگی اور ان کے ساتھ مناسب برتاؤ کی ضمانت دی جائے گی"۔

ٹرمپ نے "ٹروتھ سوشل" پلیٹ فارم پر لکھا کہ "جمعرات کے روز روسی صدر ولادی میر پوتین کے ساتھ رابطے میں نہایت فائدہ مند بات چیت ہوئی۔ اس بات کا بڑا امکان ہے کہ یہ خوف ناک اور خون روز آخر کار ختم ہو جائے گی"۔

ٹرمپ نے مزید لکھا کہ "تاہم اس وقت ، ہزاروں یوکرینی فوجی مکمل طور پر روسی فوج کے محاصرے میں ہیں، وہ نہایت تشویش ناک حالات میں ہیں"۔

امریکی صدر کے مطابق انھوں نے صدر پوتین سے گزارش کی ہے کہ ان فوجیوں کی جان بچائی جائے۔ یہ ایک خوف ناک قتل عام ہو گا جو ہم نے دوسری جنگ عظیم کے بعد سے نہیں دیکھا"۔

 قبل ازیں محکمہ انصاف میں آمد کے بعد پریس سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہم نے یوکرین کی مدد کیلئے 350 ارب ڈالر خرچ کیے ۔ سابق صدر جو بائیڈن نے یہ جنگ جاری رہنے دی۔انہیں ایسا کبھی نہیں ہونے دینا چاہیے تھا

 یادرہے محکمہ انصاف میں ان کی آمد صدرڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی اور ایک دہائی میں کسی بھی امریکی صدر کی پہلی  دفعہ آمد  ہے۔

محکمہ انصاف  کا دورہ کرنے والے آخری صدر باراک اوباما تھے جنہوں نے اس وقت کے اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر کی رخصتی کی تقریب میں شرکت کی۔

اپنی تقریر میں افغانستان کے حوالے سے بھی انہوں نےسابق صدر بائیڈن پر تنقید کی اور کہا کہ انہوں نے خراب طریقے سےافغانستان سے امریکا کا انخلا کیا۔

ٹرمپ نے کہا کہ بگرام ایئر بیس اب چین کے قبضے میں ہے۔ انہوں نے کہایہ ایئر بیس چین کے ایٹمی اور میزائل بنانے کے مقامات سے ایک گھنٹے کے فاصلے پر واقع ہے۔

صدر ٹرمپ نےاس کا بھی اعادہ کیا کہ کہا کہ وہ امریکا سے غیر قانونی طور پر مقیم جرائم پیشہ افراد کو نکال رہے ہیں۔

 دریں اثنا امریکی محکمہ انصاف میں تقریرکرتے ہوئے ان پراسیکیوٹرز اور عہدیداروں کا احتساب کرنے کا عزم کیا جنہوں نے ان کے خلاف قانونی مقدمات کی پیروی کی تھی۔

انہوں نے کہا،"ہمارے ملک میں قانون نافذ کرنے والے چیف آفیسر کے طور پر، رونما ہونے والی غلطیوں اور زیادتیوں کے لیے مکمل احتساب کا مطالبہ کروں گا۔ امریکی عوام نے ہمیں ایک مینڈیٹ دیا ہے - ایسا مینڈیٹ جیسا کہ بہت کم لوگوں نے سوچا تھا،"

Watch Live Public News