ویب ڈیسک: کراچی کی مبینہ ڈرگ کوئین انمول عرف پنکی کے خلاف مختلف شہروں میں 15 مقدمات درج ہونے کے باوجود 15 برس تک اس کی گرفتاری نہ ہونا کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق پنکی کے خلاف 10 پرانے مقدمات پہلے سے موجود تھے، جبکہ دیگر مقدمات کراچی کے گارڈن اور بغدادی تھانوں، اے این ایف کلفٹن اور لاہور میں درج کیے گئے۔ اس کے باوجود قانون نافذ کرنے والے ادارے اسے گرفتار کرنے میں ناکام رہے۔
کیس سے جڑی معلومات میں پولیس اور دیگر اداروں کی مبینہ غفلت ہی نہیں بلکہ ممکنہ ملی بھگت کے الزامات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آخر وہ کون لوگ تھے جو پنکی کو مسلسل قانون کی گرفت سے بچاتے رہے۔
رپورٹس کے مطابق 2018 میں سی ٹی ڈی نے حراست میں لینے کے باوجود اسے چھوڑ دیا، جبکہ 2019 میں اے این ایف کلفٹن نے مقدمہ درج کیا مگر گرفتاری عمل میں نہ آسکی۔ اب یہ سوال بھی زیرِ بحث ہے کہ سات سال تک کارروائی کیوں نہ ہوئی۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس پورے نیٹ ورک میں بھاری رقوم کا استعمال کیا گیا اور یہی وجہ تھی کہ ملزمہ ہر بار بچ نکلتی رہی۔
اب اے این ایف کلفٹن کی جانب سے اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت درج مقدمے میں بھی گرفتاری کی استدعا کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ لاہور پولیس کی ٹیم بھی تحقیقات کے لیے کراچی پہنچنے کی تیاری کر رہی ہے۔
دوسری جانب عوامی حلقوں میں شکوک و شبہات برقرار ہیں۔ کئی افراد کا کہنا ہے کہ ماضی کی طرح اس بار بھی ملزمہ جلد رہا ہو سکتی ہے، جس سے انصاف کے نظام پر سوالات مزید گہرے ہو رہے ہیں۔