منی پور جل رہا ہے: حکومتی ناکامیاں اور ریاستی ردِعمل کی ناکامی

منی پور جل رہا ہے: حکومتی ناکامیاں اور ریاستی ردِعمل کی ناکامی

(ویب ڈیسک) بھارتی میڈیا ادارے اکنامک ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ منی پور میں تازہ نسلی تشدد کے نتیجے میں 38 سے زائد کوکی اور ناگا شہری مبینہ طور پر مخالف مسلح گروہوں کے ہاتھوں یرغمال یا اغوا کر لیے گئے، جبکہ کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

تنازع اب صرف میتیئی اور کوکی برادریوں کے درمیان نہیں رہا بلکہ ناگا اور کوکی گروہ بھی ایک دوسرے پر قتل، اغوا اور منی پور کے پہاڑی اضلاع میں حملوں کے الزامات لگا رہے ہیں۔

منی پور اس لیے جل رہا ہے کیونکہ ریاستی اداروں کی مسلسل ناکامیوں نے مقامی نوعیت کے تنازعات کو ایک طویل انسانی اور سکیورٹی بحران میں تبدیل کر دیا ہے۔

آر ٹی آئی اور حکومتی اعداد و شمار کے مطابق مئی 2023 سے اب تک 200 سے زائد افراد ہلاک اور تقریباً 58 سے 60 ہزار افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جو شہریوں کے تحفظ اور تشدد پر قابو پانے میں ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔

 12 مئی کو کانگپوپی میں ہونے والے حملے، جس میں تین چرچ رہنما مارے گئے، نے حساس علاقوں میں انٹیلی جنس اور سکیورٹی کے شدید خلا کو بے نقاب کر دیا۔

 2023 سے 2025 کے دوران اسلحہ خانوں پر حملوں اور پولیس کے اسلحے کی بار بار لوٹ مار نے ہزاروں ہتھیار عوام اور مسلح گروہوں تک پہنچا دیے، جو تشدد اور مسلح سرگرمیوں کو مزید ہوا دے رہے ہیں۔

حالیہ حملوں کے بعد فوری انتقامی گرفتاریاں کی گئیں؛ ریاستی وزیر داخلہ نے تسلیم کیا کہ کوکی اور ناگا برادریوں کے “38 سے زائد” افراد مختلف گروہوں کے قبضے میں تھے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کمزور ریاستی عملداری نے متوازی جبر اور ہجوم کی طاقت کو فروغ دیا۔

انٹرنیٹ بندشوں اور این جی اوز پر پابندیوں نے آزاد نگرانی اور انسانی امداد کی رسائی کو محدود کر دیا ہے، جبکہ 50 ہزار سے زائد بے گھر افراد کیمپوں میں ناکافی طبی سہولیات، صفائی اور خوراک کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔

40 ہزار سے زائد مرکزی فورسز کی تعیناتی کے باوجود کمزور رابطہ کاری، جانبدارانہ پولیسنگ اور جوابدہی کے فقدان نے پائیدار امن قائم کرنے میں ناکامی ظاہر کی ہے۔

Watch Live Public News