(ویب ڈیسک) پاکستان نے اپنے پہلے ' پانڈا بانڈ' کے ذریعے 25 کروڑ ڈالر (1.75 ارب یوآن) حاصل کر لیے ہیں، جو چین کی مقامی کیپیٹل مارکیٹ میں ایک تاریخی داخلہ ہے۔ اس بانڈ کو غیر معمولی پذیرائی ملی اور اس کی طلب مقررہ حد سے 5 گنا زیادہ (1.26 ارب ڈالر سے زائد کی بولیاں) رہی۔
اس بانڈ پر منافع کی شرح (کوپن ریٹ) محض %2.5 ہے جو کہ انتہائی مسابقتی ہے؛ یہ امریکی ڈالر کے قرضوں پر وصول کی جانے والی دوہرے ہندسوں کی شرحِ سود کے برعکس ہے، جس سے پاکستان پر سود کا بوجھ نمایاں طور پر کم ہوگا۔
ایک طرف پاکستان استحکام کی جانب گامزن ہے تو دوسری طرف بھارت میں تھوک افراطِ زر (WPI) اپریل 2026 تک %8.3 کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے، جس کی بنیادی وجوہات تیل کی قیمتوں کا جھٹکا اور مینوفیکچرنگ کی بڑھتی ہوئی لاگت ہے۔
بھارت اس وقت امریکی ٹیرف اور تجارتی غیر یقینی صورتحال سے نبرد آزما ہے، جس کی وجہ سے 2025 کے اواخر میں اس کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے %2.8 تک بڑھ گیا ہے۔
بھارت 'رئیر ارتھ' (نایاب زمینی معدنیات) کی ریفائننگ کے لیے اب بھی %90 تک چین پر منحصر ہے۔ 2026 میں برآمدی کنٹرول سخت ہونے کے باعث بھارتی مینوفیکچرنگ کو سپلائی چین کے دباؤ کا سامنا ہے، جو اس کے سیمی کنڈکٹر اور الیکٹرک وہیکل (EV) کے شعبوں کے لیے خطرہ ہے۔
پانڈا بانڈ اور آئی ایم ایف (IMF) کی جانب سے 1.3 ارب ڈالر کی حالیہ قسط کے باعث 2026 میں پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 21 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے ہیں، جو عالمی اتار چڑھاؤ کے خلاف ایک مضبوط ڈھال فراہم کرتے ہیں۔
چین کی 1.3 ٹریلین ڈالر کی بانڈ مارکیٹ تک رسائی حاصل کر کے پاکستان نے امریکی ڈالر کے مقابلے میں ایک قدرتی دفاع (ہیج) پیدا کر لیا ہے، جو اسے ان تجارتی پابندیوں اور معاشی جنگوں سے محفوظ رکھتا ہے جو اس وقت نئی دہلی کو متاثر کر رہی ہیں۔
جہاں پاکستان نئے سرمایہ کاری کے ذرائع حاصل کر رہا ہے، وہیں 2026 کے آغاز میں بھارت میں بے روزگاری کی شرح بڑھ کر %5.1 ہو گئی ہے، جو جی ڈی پی کے مجموعی اہداف کے باوجود اندرونی معاشی دباؤ کی نشاندہی کرتی ہے۔