ویب ڈیسک: سفاک مودی کی سرپرستی میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آرایس ایس) عالمی سطح پر انتہا پسندہندوتوا نظریہ کے فروغ کیلئے سرگرم عمل ہے۔ غاصب مودی اور آر ایس ایس، ریاستی طاقت کے ناجائز استعمال سے اقلیتوں کے حقوق پامال کرنے میں مصروف ہے۔
امریکی جریدہ پریزم کی تحقیقات کےمطابق آر ایس ایس نے امریکی لاء فرم کے ذریعے امریکی کانگریس پر اثر ڈالنے کیلئے لابنگ شروع کر دی۔ آرایس ایس بیرون ممالک بالخصوص امریکہ میں لابنگ کیلئے خطیر رقم خرچ کر چکی ہے۔ آر ایس ایس امریکا میں فارن ایجنٹس رجسٹریشن ایکٹ (FARA)کے بغیر لابنگ کرا رہی ہے۔
امریکی صحافی میگھناد بوس نے انکشاف کیا کہ آر ایس ایس نےخلاف ورزی کرتے ہوئے خود کو غیر ملکی ادارے کے طور پر درج کیے بغیر لابنگ کی۔
معروف امریکی صحافی ڈاکٹر آڈری ٹرشکےکے مطابق آر ایس ایس کی لابنگ امریکہ کے لیے بری خبر ہےاور امریکی قوانین کے تحت غیر قانونی ہے۔
پریزم نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ مودی کی سرپرستی میں ہندو انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس مسلمانوں کیخلاف تشدد کیلئے مشہور ہے۔
ماہرین کے مطابق آر ایس ایس کی امریکہ میں سرگرمیاں عالمی سطح پر فاشسٹ تشخص بدلنے کی کوشش ہیں۔ ہندو توا ایجنڈا کے تحت انتہا پسند مودی سرکار، بھارت میں مذہبی آزادی کیلئے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔