ویب ڈیسک: پاکستانی معاشرے میں شادی ایک نہایت حساس اور اہم موضوع سمجھا جاتا ہے۔ عموماً والدین اپنی پسند اور خاندان کی روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے بچوں کے لیے رشتہ منتخب کرتے ہیں، مگر جدید دور میں نوجوان اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے کے خواہاں ہیں۔ خاص طور پر جب بات شادی جیسے زندگی کے سب سے اہم فیصلے کی ہو تو اکثر نوجوان اپنی پسند کے مطابق شریکِ حیات منتخب کرنا چاہتے ہیں۔
والدین کو راضی کرنا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔ بہت سے نوجوان یہ شکوہ کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ ان کی خواہشات اور محبت کو والدین وہ اہمیت نہیں دیتے جس کے وہ مستحق ہیں۔ ایسے میں کشمکش اور ذہنی دباؤ پیدا ہوتا ہے، جو کئی بار خاندانی اختلافات تک جا پہنچتا ہے۔
اسلامی تعلیمات میں یہ بات واضح کی گئی ہے کہ دعاؤں اور اذکار کی برکت سے دلوں میں نرمی پیدا ہوتی ہے اور مشکل سے مشکل حالات بھی آسان ہو جاتے ہیں۔
دارالافتاءجامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن کراچی کی ویب سائٹ پر پسند کی شادی کیلئے والدین کو راضی کرنے سے متعلق پوچھے گئے سوال پر اسلامی وظیفہ شائع کیا گیا ہے۔ جو کہ قارئین کیلئے پیش خدمت ہے۔
پسند کی شادی کے لیے والدین کو راضی کرنا:
سوال
میں اور میری پھوپھو کا بیٹا ہم دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں اور شادی کرنا چاہتے تھے، لیکن اس کے والدین نے اس کی شادی زبردستی اور لالچ کی وجہ سے اسکے دوسرے ماموں کی بیٹی یعنی میرے تایا کی بیٹی سے کردی ہے، (یاد رہے لڑکا ڈاکٹر ہے اور جس سے شادی کروائی گئ وہ دینی و دنیاوی تعلیم سے بلکل نابلد ہے اور مزید یہ کہ ہوشیار اور خوبصورتی میں بھی بلکل زیرو ہے) لیکن وہ مجھ سے دوسری شادی کرنا چاہتا ہے اور میں بھی راضی ہوں، لیکن میرے ماں باپ فقط اس لئے نہیں مان رہے کہ انہیں لگتا ہے کہ رشتے خراب ہونگے ،حالانکہ اس کی بیوی نے بھی اجازت دی ہے اسے دوسری شادی کرنے کی، تو اس صورت میں مجھے کیا کرنا چاہئے ، آیا میں خاموشی اختیار کرلوں یا ماں باپ کو مناؤں ؟ایک وجہ یہ بھی ہے انکار کی کہ پھوپھو صاحبہ مزاج کی تیز ہیں بہت۔
جواب
واضح رہے کہ پسند کی شادی میں عموماً وقتی جذبات محرک بنتے ہیں، وقت کے ساتھ ساتھ ان جذبات اور پسندیدگی میں کمی آنے لگتی ہے، نتیجتاً ایسی شادیاں ناکام ہوجاتی ہیں اورعلیحدگی کی نوبت آجاتی ہے، جب کہ اس کے مقابلے میں خاندانوں اور رشتوں کی جانچ پڑتال کا تجربہ رکھنے والے والدین اورخاندان کے بزرگوں کے کرائے ہوئے رشتے زیادہ پائے دار ثابت ہوتے ہیں اور بالعموم شریف گھرانوں کا یہی طریقہ کارہے، ایسے رشتوں میں وقتی ناپسندیدگی عموماً گہری پسند میں بدل جایا کرتی ہے؛ اس لیے مسلمان بچوں اوربچیوں کو چاہیے کہ وہ اپنے ذمے کوئی بوجھ اٹھانےکے بجائے اپنے بڑوں پراعتماد کریں، ان کی رضامندی کے بغیر کوئی قدم نہ اٹھائیں۔
البتہ والدین کو بھی چاہیے کہ عاقل بالغ اولاد کی رائے کا احترام کریں؛ کیوں کہ عاقل بالغ اولاد کو شریعت نے اس بات کااختیار دیا ہے کہ وہ اپنی پسند اور مرضی سے نکاح کرسکتے ہیں، اس لیے اگر بیٹی کسی ایسے گھرانے میں نکاح کرنے کا خواہش مند ہو جو گھرانا دین داری اور شرافت وغیرہ میں لڑکی والوں کے ہم پلہ ہو تو والدین کو بیٹی کی خواہش کا لحاظ کرنا چاہیے اور اولاد پر نکاح کے معاملہ میں جبر نہیں کرنا چاہیے اور اولاد کے ساتھ ایسا کوئی رویہ نہیں رکھنا چاہیے جس کی وجہ سے اولاد کوئی ایسا قدم اٹھانے پر مجبور ہوجائے جو سب کے لیے رسوائی کا باعث ہو۔
حاصل یہ ہے کہ آپ مناسب طریقہ سے اپنی بات اپنےوالدین کے سامنے رکھ دیں، اس کے بعد اگر وہ اس رشتے کو مناسب سمجھیں تو انہیں بھی چاہیے کہ وہ آپ کا نکاح کردیں، لیکن اگر وہ رشتے کو آپ کے لیے مناسب نہیں سمجھتے تو آپ پھر بڑوں کے کیے ہوئے فیصلوں پر اعتماد کریں اور اللہ تعالیٰ سے خوب دعا کریں۔ نیز درج ذیل ورد بھی جاری رکھیں ان شاء اللہ معاملہ بعافیت حل ہوجائے گا:
نمازِعشاء کے بعد اول وآخر گیارہ گیارہ مرتبہ درود شریف اوردرمیان میں گیارہ سومرتبہ ’’یاَلَطِیْفُ‘‘ پڑھ کراللہ تعالیٰ کے حضور دعاکریں۔(آپ کے مسائل اور ان کا حل4/251،مکتبہ لدھیانوی)
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 144311100512
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
اس وظیفے کو پڑھنے کیلئے جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن کے دارالافتاء کی ویب سائٹ پر جا کر مطالعہ کر سکتے ہیں ۔