پاک بھارت میچ میں ہاتھ نہ ملانے کا تنازعہ شروع کیسے ہوا؟

پاک بھارت میچ میں ہاتھ نہ ملانے کا تنازعہ شروع کیسے ہوا؟
کیپشن: پاک بھارت میچ میں ہاتھ نہ ملانے کا تنازعہ شروع کیسے ہوا؟

ویب ڈیسک: ایشیا کپ کے دبئی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے پاک بھارت میچ میں بھارتی ٹیم کے رویے نے کرکٹ کی دنیا میں نئی بحث چھیڑ دی۔ میچ کے اختتام پر بھارتی کھلاڑیوں نے پاکستان ٹیم کے ساتھ روایتی ہینڈ شیک سے انکار کیا اور براہِ راست ڈریسنگ روم واپس چلے گئے۔ یہ رویہ کھیل کے آداب اور اسپورٹس مین شپ کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔

میچ کے دوران ایک اور واقعہ بھی سامنے آیا جس نے سب کو حیران کر دیا۔ پاک بھارت ٹاس کے موقع پر بھارتی کپتان سوریا کمار یادو نے پاکستانی کپتان سلمان علی آغا سے ہاتھ ملانے سے گریز کیا۔ مبصرین کے مطابق اس فیصلے کے پیچھے بھارت میں ہونے والا دباؤ کارفرما تھا۔ چند روز قبل یادو نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی سے ہاتھ ملایا تھا، جس پر بھارتی میڈیا اور سوشل پلیٹ فارمز پر انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی دباؤ کے باعث انہوں نے اس بار مصافحے سے اجتناب کیا۔

صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب میچ کے بعد بھارتی کھلاڑی جیت کا جشن منانے کے بجائے ڈریسنگ روم جا کر دبک کر بیٹھ گئے اور کسی پاکستانی کھلاڑی سے ملاقات نہ کی۔ پاکستانی کپتان سلمان علی آغا اور کوچ مائیک ہیسن بھارتی کیمپ میں گئے مگر کوئی بھارتی کھلاڑی سامنے نہ آیا۔

کرکٹ کے تجزیہ کاروں نے اس رویے کو غیر پیشہ ورانہ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق، کھیل کا بنیادی اصول ہے کہ میچ کے بعد کھلاڑی ہاتھ ملا کر ایک دوسرے کو تسلیم کریں، چاہے نتیجہ کچھ بھی ہو۔ بھارتی کپتان سوریا کمار یادو نے پریس کانفرنس میں ہاتھ نہ ملانے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ "کچھ چیزیں اسپورٹس مین شپ سے بھی بالاتر ہوتی ہیں"، تاہم ان کا یہ بیان مزید سوالات کو جنم دے گیا۔

پاکستانی کوچ مائیک ہیسن نے بھارتی رویے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "ہم میچ کے اختتام پر ہاتھ ملانے کے لیے تیار تھے، لیکن ہمارے حریف پہلے ہی ڈریسنگ روم جا چکے تھے، یہ میچ ختم کرنے کا ایک افسوسناک طریقہ تھا۔"

تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ سب کچھ بھارت میں حالیہ قومی دباؤ کا نتیجہ ہے، خاص طور پر پاک فوج کے ہاتھوں بھارتی افواج کی شکست اور رافیل طیاروں کی تباہی کے بعد یہ اثرات کھیل کے میدان تک بھی پہنچ چکے ہیں۔

Watch Live Public News